سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 795 of 938

سلسلہ احمدیہ — Page 795

795 حضرت شاہ رفیع الدین صاحب نے تحریر فرمایا کہ بیعت کے وقت آسمان سے ان الفاظ میں آواز آئے گی یہ اللہ کا خلیفہ مہدی ہے اس کی آواز سنو، اس کی اطاعت کرو اور یہ آواز اس جگہ کے تمام خاص و عام سنیں گے۔“ (قیامت نامہ صفحہ نمبر 4، شاہ رفیع الدین - مطبع مجتبائی دہلی) یہ اور اس قسم کی اور بہت سی پیشگوئیاں ہیں جو اسلامی لٹریچر میں موجود ہیں۔اس کے علاوہ انجیل میں بھی مسیح علیہ السلام کی آمد ثانی کے وقت وحدت اقوام اور آسمانی پیغام کی عالمی اشاعت کا تذکرہ موجود ہے۔ان پیشگوئیوں میں آواز کے آسمان سے اترنے اور یکساں طور پر سب لوگوں کو پہنچنے اور اہل مشرق و مغرب کا اپنی اپنی جگہ پر رہتے ہوئے ایک دوسرے کو دیکھنے کا جو تذکرہ ہے اس میں اس عالمی مواصلاتی نظام کی طرف بلیغ اشارہ ہے جو آج کی دنیا میں سیٹلائٹ کمیونیکیشن ، فون، فیکس، انٹر نیٹ اور ٹیلی ویژن وغیرہ کی صورت میں معروف و مشہور ہے۔پھر یہی نہیں کہ امام مہدی علیہ السلام کو ایسے وسائل مہیا ہونے کی پیشگوئیاں پہلے بزرگان نے کیں بلکہ خود حضرت اقدس مسیح موعود اور الامام المہدی علیہ السلام کو بھی الہامات اور رؤیا و کشوف میں ایسی خبریں دی گئیں۔8 دسمبر 1902ء کو مسجد مبارک قادیان میں حضرت اقدس مسیح موعود و مہدی معہود علیہ السلام نے عصر کی نماز سے قبل اپنے اصحاب کو ایک رؤیا سنائی جس میں ذکر فرمایا کہ : ایسا معلوم ہوتا ہے کہ میں ہوا میں تیر رہا ہوں اور ایک گڑھا ہے مثل دائرے کے گول۔اور اس قدر بڑا ہے جیسے یہاں سے نواب صاحب کا گھر اور میں اس پر ادھر سے اُدھر اور اُدھر سے ادھر تیر رہا ہوں۔سید محمد احسن صاحب کنارے پر تھے۔میں نے ان کو بلا کر کہا کہ دیکھ لیجئے کہ عیسی علیہ السلام تو پانی پر چلتے تھے اور میں ہوا پر تیر رہا ہوں۔اور میرے خدا کا فضل اُن سے بڑھ کر مجھ پر ہے۔حامد علی میرے ساتھ ہے اور اس گڑھے پر ہم نے کئی پھیرے کئے۔نہ ہاتھ ، نہ پاؤں ہلانے پڑتے ہیں اور بڑی آسانی سے ادھر ادھر تیر رہے ہیں۔( ملفوظات جلد دوم۔ایڈیشن 2003 صفحہ 569-572 مطبوعہ ربوہ )