سلسلہ احمدیہ — Page 786
786 و میں سمجھتا ہوں کہ آئندہ زمانہ میں خلافت کا جماعت سے تعلق اسی ٹیلی ویژن کے رابطہ سے ہی زیادہ تر ہو سکے گا اور یہ رابطہ شروع میں دو طرفہ ہو جائے گا۔یعنی جہاں سے کوئی خلیفہ خطاب کر رہا ہو گا ساری دنیا کی جماعتوں کی مختلف جگہوں سے جھلکیاں بھی اس کے سامنے مختلف ٹیلی ویڑنز پر دکھائی جارہی ہوں گی اور وہ دیکھ رہا ہو گا کہ کہاں کیا ہورہا ہے۔باقی یہ مکس (mix) کرنے والے ماہرین جو ہیں بہت حد تک ان کے اختیار میں ہے کہ کس منظر کو زیادہ نمایاں کر کے دکھا ئیں۔لیکن یہ مکن تو ہو ہی چکا ہے جب اس کی مالی توفیق ملے گی تو اس طرح شروع ہو جائے گا۔تو آئندہ کا ایک نقشہ تو یہ ہے کہ اس طرح ملاقاتیں ہوا کریں گی۔دوسرا یہ کہ ہر احمدی کے کانوں میں براہ راست خلیفہ وقت کی آواز پہنچے اور اس کی آنکھیں اس کو دیکھ رہی ہوں۔پھر دل میں یہ بھی طمانیت ہو کہ وہ بھی مجھے دیکھ سکتا ہے، یہ ایک عجیب کیفیت ہے جو آئندہ دور سے تعلق رکھنے والی ہے۔ہم جو ان دوادوار کے سنگم پر ہیں ہماری خوش نصیبی ہے کہ ہم نے وہ وقت بھی دیکھتے ہیں جبکہ ہر شخص نہ صرف خلیفہ وقت سے ملاقات کرتا ہے بلکہ حق رکھتا ہے کہ جس کو توفیق ملتی ہے جب چاہے اپنے بچوں کو ساتھ لے کر آ کر بے تکلف ملاتا ہے اور بہت سے ایسے ہیں جو یہ کہتے ہیں کہ ہمیں توفیق نہیں ، ہم کیا کر سکتے ہیں۔اس کے لئے اللہ تعالیٰ نے یہ نیا نظام جاری کر دیا ہے اور جماعت اس وقت گو یا عملاً دو ادوار میں بٹی ہوئی ہے۔ایک حصہ وہ ہے جو ابھی تک پچھلے دور سے لطف اندوز ہورہا ہے، ایک حصہ ہے جو مستقبل میں آنے والا حصہ ہے اس کے مستقبل کا ابھی سے آغاز ہو چکا ہے۔اس پہلو سے بڑے پُر لطف دن ہیں۔(خطبہ جمعہ فرمودہ 29 جنوری 1993ء۔خطبات طاہر جلد 12 صفحہ 90) چنانچہ 21 جون 1996ء کو اس نادر نظام نے ایک اور خوبصورت موڑ لیا۔حضرت خلیفہ اسیح الرابع رحمہ اللہ کے سفر کینیڈا کے دوران ایم ٹی اے پر دو طرفہ رابطوں کا آغاز ہوا۔کینیڈا سے حضور کے خطبہ کی براہ راست تصاویر انگلستان میں پہنچ رہی تھیں اور لندن کی تصاویر کینیڈا پہنچ رہی تھیں اور ایم ٹی اے انٹرنیشنل کے ذریعہ تمام دنیا کے احمدی ان تصاویر کو بیک وقت دیکھ رہے تھے۔حضور رحمہ اللہ نے اس کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: