سلسلہ احمدیہ — Page 651
651 ہٹ گئے، گویا اُن کے نزدیک یہ تعلیم تھی اور کھلم کھلا اخباری اشتہارات کے ذریعے میرا یہ چیلنج قبول کر لیا اور بیان کیا کہ یہ سال اب احمدیت کی ہلاکت کا سال ہوگا۔علماء کا جورڈ عمل ہے وہ میں چند علماء کے اپنے الفاظ میں آپ کو سناتا ہوں۔اہل سنت کے وہ رہنما جو انگلستان میں بہت نمایاں حیثیت رکھتے ہیں ان میں سے ایک دوست مفتی محمد اکبر زیرک نائب امیر جماعت اہل سنت برطانیہ ہیں۔وہ لکھتے ہیں: مرزا طاہر کے چیلنج کے مطابق علمائے اہل سنت قادیانیوں کی تباہی کے لئے ڈھا کرتے ہیں اور اُن کے عبرتناک انجام کے منتظر بیٹھے ہیں۔" آرہا ہے۔قاضی عبد الخبیر سیالوی امیر تنظیم علمائے ضیاء العلوم برطانیہ نے بیان دیا۔دنیا پر قادیانیت کی تباہی کے آثار بہت جلد واضح ہو جائیں گے۔“۔۔مولانا نیا ز احمد نیازی نائب ناظم تبلیغ جماعت اہل سنت برطانیہ نے کہا: مسلمانوں کی دعاؤں کے نتیجے میں قادیانیوں پر اللہ کا عذاب ہر طرف سے نظر پھر سب علماء نے مل کر ایک اعلان کیا۔یہ 31 جنوری کو یوم دعا برائے نجات فتنہ قادیانیت کے طور پر منایا جائے کا اعلان تھا۔سارے علماء نے تمام اہل سنت کو جو انگلستان کے تھے یا جرمنی وغیرہ کے، ان کو مخاطب کر کے کہا ہم اس چیلنج کو قبول کرتے ہیں اور ایک دن مقرر کرتے ہیں اس دن سارے یوم دُعا منائیں۔21 علماء جن کے نام درج ہیں نے مشترکہ بیان جاری کیا جو رمضان المبارک 31 / جنوری کے جمعتہ المبارک کو پورے برطانیہ اور اہل سنت والجماعت کی مساجد میں یوم دعا منانے کے متعلق تھا۔اُس روز سب ائمہ نے اور جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے جرمنی بھی ان کے ساتھ شامل ہو گیا، ان سب ائمہ نے اپنی اپنی مساجد میں تمام تر زور مارا، حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی مخالفت میں نہایت گندی بکو اس کی اور آخر یہ اعلان کیا کہ اب ہم اس چیلنج کو قبول کرتے ہوئے اعلان کرتے ہیں کہ آج ہماری دعائیں قبول ہوں گی اور احمدیت کے لئے ذلت اور رسوائی کا دن ہوگا۔