سلسلہ احمدیہ — Page 650
650 خدا کے نیک بندے قبولیت دعا سے شناخت کئے جاتے ہیں اور ان دعاؤں کے لئے ضروری نہیں کہ بالمواجہ (یعنی آمنے سامنے) کی جائیں بلکہ چاہئے کہ فریق مخالف مجھے خاص اشتہار کے ذریعہ سے اطلاع دے کر پھر اپنے گھروں میں دعائیں کرنی شروع کر دیں۔“ شهار قطعی فیصلہ کے لئے 19 مئی 1897ء مجموعہ اشتہارات جلد دوم صفحہ 411-413) حضور رحمہ اللہ نے فرمایا: جو میرا چیلنج تھا وہ بعینہ اسی مضمون کا تھا۔میں نے علماء سے کہا! کہیں اکٹھے ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ہم احمدی ساری دنیا میں اپنی اپنی جگہ اپنے گھروں میں دعائیں کریں گے تم دعاؤں میں زور لگاؤ اور جو بس چل سکتی ہے چلاؤ لیکن یہ بات یادرکھو کہ تم جھوٹے نکلو گے۔ہم سچے نکلیں گے۔یہ خلاصہ تھا میرے چیلنج کا۔۔۔۔اہل پاکستان کو مخاطب ہوتے ہوئے میں نے یہ کہا تھا کہ دیکھو تمہاری بقا اور تمہاری نجات ملاں سے نجات میں وابستہ ہے۔اس زہر کو اپنی جڑوں سے نکال باہر کر دیا یہ جڑیں اکھیڑ کر باہر پھینک دو پھر تمہارا ملک بچے گا اور تمہیں امن نصیب ہوگا۔اگر یہ ملاں تمہارے وطن میں پلتا رہا یعنی ہمارے وطن میں پلتا رہا تو پھر اس کے مقدر میں سوائے بلاکت اور بربادی کے اور کچھ نہیں لکھا جائے گا۔اور مباہلے میں یہ بات بڑی کھول کر واضح کردی کہ دیکھو یہ مباہلہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے برکتوں کے نشان کا مباہلہ ہے۔اگر خدا تعالی کی طرف سے اس سال احمدیت پر پہلے سے بڑھ کر برکتیں نہ نازل ہوئیں تو ہم یقیناً جھوٹے نکلیں گے۔اگر تم پر پہلے سالوں سے بڑھ کر محوستیں نہ اتریں تو پھر بھی ہم جھوٹے نکلیں گے۔اور اس کے برعکس مضمون کی صورت میں تم جھوٹے اور ہم ہے۔اتنی سی بات ہے۔تم مان کیوں نہیں لیتے ؟ تمہیں کہیں آنے کی ضرورت نہیں۔ایک اعلان دعا ہی تو ہے جس کی طرف تمہیں بلایا جارہا ہے۔دعا کرو اور پھر دیکھو کہ خدا کیا تقدیر ظاہر فرماتا ہے۔اس اعلان کے نتیجے میں یہ عجیب واقعہ گزرا جس کی مجھے توقع نہیں تھی کہ خصوصیت کے ساتھ ہندوستان کے علماء نے یہ چیلنج قبول کر لیا۔وہ جو پہلے کہا کرتے تھے کہ مذہبی لحاظ سے لازم ہے کہ دو فریق آمنے سامنے ہوں، وہ کہتے تھے قرآن کی یہی تعلیم ہے۔اس قرآنی تعلیم سے وہ