سلسلہ احمدیہ — Page 652
652 چنانچہ ہفت روزہ آواز انٹرنیشنل لندن نے اس وقت اس ساری کارروائی کو شائع کیا۔اسی طرح اخبار جنگ لندن نے اپنی یکم فروری 1997ء کی اشاعت میں لکھا: جماعت اہل سنت برطانیہ کی پریس ریلیز کے مطابق برطانیہ بھر میں قادیانیت سے نجات کے لئے یوم دُعا منایا گیا۔علماء اور مشائخ نے کہا کہ امت مسلمہ کا متفقہ فیصلہ ہے کہ قادیانی دائرہ اسلام سے خارج ہیں اور ان کا زوال مقدر بن چکا ہے۔ملک بھر میں منائے جانے والے اس یوم دعا میں 31 علماء نے خطاب کیا۔حضور رحمہ اللہ نے اس خبر کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا: الحمد للہ کہ اس طرح یہ پرانا جھگڑا جو مباہلے کا چلا آرہا تھا یہ کوئی نہ کوئی بہانہ بنا کر فرار اختیار کرتے تھے آخر وہ جھگڑا طے پایا اور دونوں فریق۔۔۔ایک دوسرے کے مقابل پر نکلے۔اس مباہلہ کے نتیجے میں بعض ایسے حیرت انگیز واقعات رونما ہونے لگے جن کے متعلق خود مجھے بھی تصور نہیں تھا۔میں عمومی طور پر احمدیت کے حق میں تائید الہی کا نشان مانگ رہا تھا اور عمومی طور پر دشمنوں کی ہلاکت یا ان کی ذلت کا نشان مانگ رہا تھا۔لیکن مباہلہ کے آٹھ دن کے اندر ایک ایسا معاند احمدیت بلاک ہوا جس کے متعلق سارے پاکستان میں ماتم کی صف بچھ گئی اور بہت بڑی بڑی شہ سرخیوں میں اس کی ہلاکت کا واقعہ یوں بیان ہوا ہے کہ سپاہ صحابہ کے سر پرست اعلیٰ مولانا ضیاء الرحمن فاروقی کی ہلاکت، لاہور میں ہم دھما کہ ضیاء فاروقی سمیت 30 افراد ہلاک۔دھماکہ کے بعد آگ لگ گئی۔نعشوں کے ٹکڑے اڑ گئے اور انسانی اعضاء دور جا گرے۔متعدد گاڑیاں تباہ۔ہر طرف خون ہی خون۔نصف گھنٹے تک کوئی مدد کو نہیں پہنچا۔یہ پہلا وہ نشان تھا مباہلے کے بعد جو اس طرح ظاہر ہوا کہ امریکہ سے مجھے بعض نوجوانوں نے ٹیکس بھیجی اور کہا کہ آج ہمارا ایمان پہلے سے بڑھ کر احمدیت پر مضبوط ہو گیا ہے کہ ہمیں وہم و گمان بھی نہیں تھا کہ آپ کے مباہلے کا اثر اتنی جلدی ظاہر ہونا شروع ہوگا۔لیکن خدا تعالیٰ نے یہ دکھانے کے لئے کہ ہمارا یہ تاثر کہ یہ مباہلے کا نتیجہ ہے۔غلط نہیں ہے، کرا ئیڈن کے ایک دوست احمد شریف رندھاوا صاحب کو ایک رؤیا دکھائی جو اس واقعہ سے پہلے کی رویا