سلسلہ احمدیہ — Page 646
646 ہوگی، ایک کامل عید اور دوسری عید اسی کے ساتھ جڑی ہوئی۔اقترب بالکل ساتھ ہی ہوگی۔پس حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے 1893ء میں جو پیش گوئی فرمائی کہ آج سے چھ سال نہیں گزریں گے کر لیکھرام ایک خدا تعالٰی کے قہری عذاب کا نشانہ بن کر ایک فرشتے کے ہاتھوں ذبح ہوگا یا قتل کیا جائے گا اور یہ بھی بتایا گیا کہ اس کے منہ سے ایسی آواز نکلے گی جیسے بچھڑے کے منہ سے آواز نکلتی ہے۔اس کی نشان دہی اتنی واضح فرما دی کہ وہ دن عید کا دن، ایسا دن جو عید کے قریب تر ہے اور 1897ء میں وہ جمعہ آیا جو عید کا دن تھا اور العید بن گیا۔یعنی ایسا جمعہ اور ایسی عید جو دونوں اپنے اپنے مضمون کے لحاظ سے کامل ہو گئے اور دوسرے دن پھر وہ يَوْمُ الْعِید ظہور پذیر ہوا۔جس کے متعلق فرمایا تھا سَتَعْرِفُ يَوْمَ الْعِيدِ “ اور ہفتے کے روز لیکھرام کے پیٹ میں ایک ایسے نوجوان نے چھری گھونپی اور صرف گھونپی نہیں بلکہ اندر پھر ایا جس سے اس کی انتڑیاں کٹ گئیں اور جو کچھ تھا وہ باہر آ گیا جس کے متعلق کوئی سمجھ نہیں آ سکی اور کچھ پتہ نہ چلا۔باوجود انتہائی تحقیق کے کسی کو معلوم نہیں ہو سکا کہ وہ کون تھا، کہاں سے آیا، کہاں چلا گیا۔وہ ایک ایسے بازار میں تھا جو آریوں کا بازار تھا وہ تین منزلہ مکان تھا جس کے اوپر کی منزل پر لیکھرام بیٹھا ہوا تھا اور نیچے کی منزل پر اس کی بیوی تھی اور وہ لڑکا جس نے اس کو قتل کیا ہے وہ کچھ عرصہ پہلے اس کے پاس آیا اور اس کے ساتھ۔۔۔گویا کہ آریہ ہو چکا ہو اس طرح اس کے ساتھ رہنے لگا۔اور جب یہ ہفتے کا روز آیا عید کے بعد تو اس دن اس نے اس کے پیٹ میں جیسا کہ بیان کیا گیا ہے چھری گھونپی اور پھر پھیری اندر اور اس کے منہ سے بہت زور کی چیخ نکلی۔اس قدر درد ناک آواز تھی کہ اس کی بیوی دوڑ کر سیڑھیوں سے ہوتی ہوئی اوپر چڑھنے لگی جن سیڑھیوں سے اس نے نیچے اترنا تھا اور نیچے سب آریوں کا بازار تھا۔اس کے واویلے اور شور سے سارے متوجہ ہو گئے اور پرلی طرف اترنے کے لئے کوئی سیڑھیاں نہیں تھیں، کوئی شخص بھی جو پر لی طرف چھلانگ لگا تا وہ یقینا کٹڑے ٹکڑے ہو جاتا۔پس ایسی حالت میں جب بیوی او پر پہنچی تو دیکھا کر لیکھر ام تڑپ رہا ہے زخموں سے اور اس کی انتڑیاں اور بیٹ کا اندر کا جو کچھ بھی ہے وہ باہر آچکا ہے اور مارنے والے کا کوئی نشان نہیں۔نیچے بازار میں جب شور ہوا تو لوگوں نے توجہ کی۔جب پوچھا گیا ان سے تو انہوں نے کہا