سلسلہ احمدیہ — Page 645
645 لگایا میں نے کہا کہ ہم کہتے ہیں لَعْنَةُ الله عَلَى الْكَاذِبِين تم بھی خدا کے نام پر قسم کھا کر یہ اعلان کرو کہ ہم بچے ہیں یہی احمدی ہیں، یہی ان کا عقیدہ ہے تو پھر دیکھو خدا تعالیٰ تم سے کیا سلوک کرتا ہے اور ہم سے کیا سلوک کرتا ہے۔آج تقریبا دس سال ہو گئے ہیں۔1988ء میں یہ اعلان کیا گیا تھا اور 1997 ء آ گیا ہے۔آج تو دسواں سال لگ چکا ہے خالتا اس لحاظ سے یا بہر حال دسویں سال کا آغاز ہونے والا ہے۔یہ اعلان ہے جسے آج کے FRIDAY THE 10TH پہ میں پھر دہرا دیتا ہوں، یہ میرے ہاتھ میں ہے۔مولویوں کو خوب پہنچایا گیا ہے۔اب جو الزام انہوں نے شائع کئے ہیں وہ اللہ کی قسم کھا کر یہ اعلان کر دیں سارے ملک میں کہ ہم مباہلہ تو نہیں کرتے لیکن لعنت ڈالتے ہیں کہ اگر ہم جھوٹے ہیں تو اللہ تعالیٰ ہم پر لعنت ڈالے اور ہمیں برباد اور رسوا کر دے۔اگر مولویوں میں ہمت ہے تو اس چیلنج کو قبول کریں۔پھر دیکھیں خدا ان سے کیا حشر کرتا ہے۔خدا کرے کہ ان کو یہ جہالت کی ہمت نصیب ہو جائے کہ جب وہ کثرت سے جھوٹ بول رہے ہیں تو یہ جھوٹ بھی بولیں اب۔اور خدا کی لعنت کو چیلنج کر کے پھر ان باتوں کا اعلان کریں۔تو میں یقین دلاتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ ان کی رسوائی کو ظاہر و باہر کر دے گا اور حیرت انگیز عبرت کے نشان ایک نہیں بلکہ بارہا اور کئی دکھائے گا۔“ تفصیل کے لئے ملاحظہ ہوں خطبہ جمعہ فرمودہ حضرت خلیفۃ اسیح الرابع رحمہ اللہ مورخہ 10 جنوری 1997 ، مطبوعہ الفضل انٹر نیشنل لندن خلیفہ اسح رحمه 28 فروری 1997 صفحہ 95) پھر خطبہ جمعہ فرمودہ 18 ر اپریل 1997ء بمقام اسلام آباد، علفورڈ (برطانیہ) میں آپ نے لیکھرام کی بابت پیشگوئی اور اس کی بلاکت کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا : آج کا جمعہ جو عید کے دن ہورہا ہے آج سے سو سال پہلے ایک جمعہ کی یاد دلاتا ہے جو عید ہی کے دن ہوا تھا۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے لیکھرام سے متعلق جو 1893ء میں پیشگوئی فرمائی تھی اس پیش گوئی کے پورا ہونے کا وقت اس الہامی فقرے میں تھا ستَعْرِفُ يَوْمَ الْعِيدِ وَالْعِيْدُ أَقْرَبُ کہ یہ واقعہ عید کے دن رونما ہو گا جب کہ عید اس کے قریب تر ہو گی۔اس کا مطلب یہ تھا کہ دو عیدیں اکٹھی ہوں گی۔ایک الْعِیدُ جو خاص عید