سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 647 of 938

سلسلہ احمدیہ — Page 647

647 یہاں سے تو کوئی نیچے اترا ہی نہیں، نہ کوئی پر لی طرف اترا۔چنانچہ اس کے متعلق کہا گیا کہ پھر اس کو آسمان نگل گیا یا آسمان کھا گیا کیونکہ زمین پر تو اس کا کوئی نشان نہیں۔نہ اس کے پہلے پس منظر کا کسی کو کبھی کچھ پتہ چل سکا۔حالانکہ اتنا زبردست شور ڈالا گیا تھا آریوں کی طرف سے اور دوسرے مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے مخالفین کی وجہ سے کہ یہ ناممکن تھا کہ پولیس تفتیش کرتی اور اس کا کچھ بھی نہ پتہ چلتا۔نہ پہلے کا پتہ چلا۔نہ بعد کا پتہ چلا۔کون تھا، کہاں سے آیا، کہاں چلا گیا۔یہ سارے ایک ایسے راز ہیں جو ہمیشہ راز رہیں گے۔مگر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے کشفی نظارے میں اس فرشتے کو دیکھا تھا جو چھری ہاتھ میں لئے تھا اور لیکھرام کا پوچھ رہا تھا کیونکہ حضرت محمد رسول اللہ کی گستاخی میں اس کو یہ سزاملنی تھی۔پس یہ ایک ایسا عظیم الشان نشان ہے 1897ء میں تقریبا ایک سو سال پہلے رونما ہوا۔اور آج بھی عید ہی کا دن ہے اور آج بھی جمعہ ہے۔پس آؤ دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ جس کے ہاں نشانات کی کمی نہیں پھر احمدیت کے حق میں ایسے معجزات دکھائے۔کیونکہ آج ایک لیکھرام نہیں سینکڑوں ہزاروں لیکھرام پیدا ہو چکے ہیں۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے محمد رسول اللہ کے عشق میں جو چیلنج دیا تھا اور اس کے عواقب کو خوب سمجھ کر قبول فرمایا تھا، جانتے تھے کہ تمام دنیا کی توجہ آپ کی طرف بطور قاتل کے ہوگی۔چنانچہ آپ کے گھر کی تلاشیاں لی گئیں، ہر قسم کی تحقیق کی گئی اور ایک ادنی سا بھی کوئی سراغ ایسا نہ ملا جس سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اس قتل کے ساتھ وابستہ کیا جاسکتا۔پس یہ وہ واقعہ تھا جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عشق کے نتیجہ میں رونما ہوا ہے۔اب ہمارا ، حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے اس کامل غلام کا تقاضا یہ ہے کہ اب تو سینکڑوں ہزاروں لیکھرام ہیں جو دن رات حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے متعلق گند سکتے اور گستاخیاں کرتے ہیں اور یہ حسن اتفاق نہیں، مقدر معلوم ہوتا ہے کہ یہی سال مباہلے کا سال بن گیا کیونکہ اس سے پہلے جب مباہلے کا میں نے چیلنج دیا ہے تو میرے وہم و گمان کے کسی گوشے میں بھی نہیں تھا کہ یہ لیکھرام کے قتل کا سال ہے اور لیکھرام کے متعلق خدا تعالیٰ کی چھری کے چلنے کا سال ہے۔پس یہ ساری باتیں جو اکٹھی ہوگئی ہیں یہ بتا رہی ہیں کہ خدا کی تقدیر حرکت