سلسلہ احمدیہ — Page 601
601 شاگرد اور طالبعلم کے فاصلے مٹ گئے ہیں۔ہم دونوں ایک دوسرے کی مدد کر رہے ہیں اور حیرت انگیز طور پر شفا کے نمونے دنیا میں اس وقت ہو میو پیتھک کے ذریعے ظاہر ہورہے ہیں۔۔۔۔یہ ایک بہت بڑی عظیم شفا کا ذریعہ ہے جس کی تائید حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے کشوف سے اور روحانی طور پر اللہ نے جو آپ کو علم عطا فرمایا ہے اس سے ہوتی ہے اس لئے اس میں کسی احمدی کے لئے کسی تردد کا کوئی سوال ہی باقی نہیں رہتا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے طاعون کے زمانے میں ایک اعلان شائع فرمایا اور فرمایا کہ مجھے ایک روحانی ذریعے سے یہ معلوم ہوا ہے کہ اگر طاعون کی بیماری جو جلد اور غدودوں کی بیماری ہے وہ کسی ملک میں پھیل جائے۔دراصل تو غدودوں کی بیماری ہے، جلد پر بھی اس کے اثرات ظاہر ہوتے ہیں۔تو اس کو روکنے کے لئے اگر سلفر اور مرکزی کے ذریعے جلدی بیماریاں پھیلا دی جائیں تو غدود کی بیماریاں غدود کو چھوڑ کر جلد کی طرف متوجہ ہو جاتی ہیں اور غدودوں کو شفا مل جاتی ہے۔یعنی اندر جو گلینڈ زہیں ان کو بچانے کے لئے اگر جلدی بیماریاں پھیلائی جائیں تو گلینڈ ریچ جاتے ہیں۔۔۔۔پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام لکھتے ہیں کہ اللہ تعالی کی طرف سے میرے دل میں اس بات کی طرف غیر معمولی جوش پیدا کیا گیا ہے اور میرا دل چاہتا ہے کہ تمام دنیا کے اطباء کو بتا دوں کہ اس میں ان کے لئے گہرے راز ہیں اور انسانی شفا کے لئے بہت مصالح ہیں جو اس میری دریافت کے اندر جو روحانی ذریعے سے ہوتی ہے مضمر ہیں۔اگر اطنا، غور کریں تو ان کو اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ غیر معمولی شفاء کے نئے نئے راز عطا ہوں گے۔یہ خلاصہ ہے۔الفاظ وہ نہیں ہیں۔مگر (مضمون) یہی ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بیان فرمایا۔تو اب دیکھیں کہ یہ جو نیا دور ہے اس میں جماعت احمدیہ کے بانی حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو اللہ تعالیٰ نے خبر دے رکھی تھی کہ ہومیو پیتھک شفاء کا تمام دنیا کی جسمانی شفا سے گہرا تعلق ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ حضرت مصلح موعودؓ کے دل میں جو ہو میو پیتھک کا جذبہ پیدا کیا گیا یہ بھی ایک اتفاقی حادثہ نہیں بلکہ اللہ تعالی کی تقدیر کی طرف سے باقاعدہ ایک منصوبے کے مطابق ایسا ہوا۔پھر حضرت مصلح موعود کے تیرہ لڑکے تھے ان میں کسی ایک کو اگر ہومیو پیتھک کا جنون ہوا تو مجھے ہی ہوا اور مجھے ہی خدا نے چنا اس مقام کے لئے جہاں سے میں