سلسلہ احمدیہ — Page 29
29 ان حالات میں مشاورت کے بعد ہی طے پایا کہ حضرت خلیفہ اسح الرابع رحم اللہ پاکستان سے ہجرت کریں۔چنانچہ آپ بذریعہ کار ایک قافلہ میں ربوہ سے کراچی پہنچے اور وہاں سے 30 / اپریل 1984ء کوعلی الصبح KLM کی فلائٹ کے ذریعہ کراچی سے ایمسٹرڈیم (ہالینڈ) اور پھر وہاں سے لندن (انگلستان) پہنچے۔آپ کا ہجرت کا یہ سارا سفر اللہ تعالیٰ کی خاص نصرت و تائید اور حفاظت الہی کے روشن نشانات سے معمور ہے۔معاندین احمدیت اور فتنہ انگیز ملاؤں کی طرف سے یہ پراپیگنڈہ کیا جاتا ہے کہ حضرت مرزا طاہر احمد خلیفہ اصبح الرابع رحمہ اللہ بھیس بدل کر یا جعلی ڈاکومنٹس پر ملک سے فرار ہو گئے تھے۔ہمیشہ کی المسیح طرح ان کا یہ پراپیگنڈہ بھی سراسر کذب اور افتراء پر مبنی ہے اور حقیقت سے اس کا ڈور کا بھی تعلق نہیں۔حضور رحمہ اللہ کے سفر ہجرت کی کسی قدر روداد جاننے کے لئے انگریز مصنف lan Adamson کی کتاب A Man of God ملاحظہ کریں۔اس کتاب کا اردو ترجمہ سے شائع شدہ ہے۔ہر دو کتب جماعت کی ویب سائٹ ایک مرد خدا کے نام نام سے www۔alislam۔org پر دستیاب ہیں) حضرت خلیفہ اصبح الرابع رحمہ اللہ نے مذکورہ بالا آرڈینس اور اس کے پس پردہ سازشوں اور دشمنانِ احمدیت کے بدار ادوں اور اوچھے ہتھکنڈوں کا ذکر کرتے ہوئے اپنے 28 دسمبر 1984ء کے خطبہ جمعہ میں مزید فرمایا: اس کے بعد دوسرے درجہ پر ان کا ہاتھ ابھی تک مرکزی تنظیموں پر اٹھ رہا ہے۔ربوہ کی مرکزیت کے خلاف وہ سازشیں کر رہے ہیں اور ان سازشوں کے نتیجہ میں ایک ایک کر کے وہ اپنی طرف سے ربوہ کے مرکزی خدو خال کو ملیا میٹ کرتے چلے جارہے ہیں۔چنانچہ شروع میں بظاہر معمولی بات تھی لیکن اسی وقت مجھے نظر آ گیا تھا کہ آگے ان کے کیا ارادے ہیں۔۔۔شروع میں انہوں نے کھیلوں پر ہاتھ ڈالا کہ ربوہ میں کبڑی ہوگی تو عالم اسلام کو خطرہ پیدا ہو جائے گا۔یعنی ربوہ میں اگر کبڈی ہوئی تو اس سے تمام دنیا میں عالم اسلام کو خطرہ لاحق ہو جائے گا۔ربوہ میں اگر باسکٹ بال کا میچ ہوا تو اس سے مسلمانوں کے جذبات مجروح ہوں گے اور پھر پتہ نہیں کیا ہو