سلسلہ احمدیہ — Page 30
30 جائے گا۔پھر کھیلوں سے یہ آگے بڑھے اور اجتماعات پر ہاتھ ڈالنے شروع کئے کہ لجنہ اماء اللہ کا اجتماع ہوا تو عالم اسلام پر تباہی آجائے گی۔خدام الاحمدیہ کا اجتماع ہوا تو پتہ نہیں کیا خوفناک حالات دنیا میں پیدا ہو جائیں گے جس کے نتیجہ میں اسلام نعوذ باللہ من ذالک تباہ ہو جائے گا۔بوڑھوں کا اجتماع ہوا تو اس سے ان کو خطرات وابستہ نظر آنے لگے کہ اس اجتماع سے بھی یا وطن۔۔تباہ ہو جائے گا یا عالم اسلام کو نقصان پہنچے گا۔۔۔۔چنانچہ آپ پاکستان کے اخبارات کا مطالعہ کر کے دیکھیں آپ کو ہر موقع پر اچانک اسی قسم کی خبریں نظر آئی لگ جائیں گی یعنی ایک صبح کو اٹھیں گے تو آپ کو معلوم ہوگا کہ تمام پاکستان میں ایک خاص طبقہ علماء ایک دم یہ شور مچانے لگ گیا ہے کہ انصار اللہ کا اجتماع نہیں ہو سکتا ور نہ عالم اسلام کو خطرہ ہے۔پھر اچانک علماء کو خیال آتا ہے کہ خدام الاحمدیہ کا اجتماع نہیں ہو سکتا ور نہ عالم اسلام کو خطرہ ہے، کبڈی نہیں ہو سکتی اور نہ عالم اسلام کو خطرہ ہے، باسکٹ بال نہیں ہوسکتا ور نہ عالم اسلام کو خطرہ ہے۔تو یہ جو سر الاپتے تھے سارے، آخر اس کی مرکزی جڑیں تھیں۔وہاں سے آواز نکلتی تھی تو یہ سب تک پہنچتی تھی۔اور پھر حکومت کے اخبار تھے ، حکومت کے ٹیلی ویژن اور حکومت کے ریڈیو یہ ساری باتیں اچھالتے تھے کہ علماء یہ کہہ رہے ہیں تا کہ نفسیاتی طور پر قوم پر یہ اثر پیدا ہو کہ ہاں ایک بہت ہی خطرناک بات ہونے لگی ہے اور حکومت مجبور ہورہی ہے گویا کہ ان لوگوں کی آواز کے سامنے سر ٹھکانے پر۔حالانکہ حکومت کی طرف سے یہ باتیں پیدا کی جاتی تھیں اور یہ سب کچھ ہمارے علم میں تھا۔بھر اجتماعات پر انہوں نے پابندی لگادی وہی نظر آرہا تھا کہ یہاں سے شروع کریں گے۔سیڑھیاں جس طرح انسان چڑھتا ہے ایک دو تین چار اس طرح اوپر تک پہنچنے لگیں گے۔پھر جلسہ سالانہ ان کے لئے خطرہ بن گیا اور اس قدر شور مچایا گیا سارے ملک میں کہ گویا اگر یہ بات حکومت نے نہ مانی تو حکومت تباہ ہو جائے گی۔جلسہ سالانہ اتنا بڑا واقعہ۔جماعت احمدیہ کا کیا حق ہے کہ جلسہ سالانہ کرے؟ چنانچہ جلسہ سالانہ ختم کر دیا گیا اور آج جلسہ سالانہ پر یہ ہمارا اختتامی خطاب ہونا تھا۔آج اٹھائیس ہے اور 28 تاریخ کو اختتامی تقریب ہوا کرتی تھی جس میں قرآن کے معارف بیان ہوتے تھے، اسلام کی خوبیاں بیان ہوتی تھیں، غیر مذاہب پر اسلام کی