سلسلہ احمدیہ — Page 28
28 موت کے گھاٹ اتارا ہے۔ناممکن تھا کہ جماعت اس کو برداشت کر سکتی۔جبکہ برداشت کرنے کے لئے خلافت کا جو ذریعہ خدا نے بخشا ہے اس کی رہنمائی سے محروم ہو تو اس صورت میں جماعت کا کوئی بھی رد عمل ہو سکتا تھا جو اتنا بھیانک ہو سکتا تھا اور اتنے بھیانک نتائج تک پہنچ سکتا تھا کہ اس کے تصور سے بھی رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔اور باوجود اس کے کہ ان باتوں کا ہمیں پہلے علم نہیں تھا۔ایک رات ، جس رات یہ فیصلہ ہوا ہے اس رات خدا تعالٰی نے اچانک مجھے اس بات کا علم دیا اور ساتھ ہی اللہ تعالی نے میرے دل میں ایک بڑے زور سے یہ تحریک ڈالی کہ جس قدر جلد ہو اس ملک سے تمہارا نکلنا نظام خلافت کی حفاظت کے لئے ضروری ہے۔تمہاری ذات کا کوئی سوال نہیں۔ایک رات پہلے یہ ہمیں عہد کر چکا تھا کہ خدا کی قسم میں جان دوں گا احمدیت کی خاطر اور کوئی دنیا کی طاقت مجھے روک نہیں سکے گی اور اس رات خدا تعالیٰ نے مجھے ایسی اطلاعات دیں کہ جن کے نتیجہ میں اچانک میرے دل کی کایا پلٹ گئی۔اس وقت مجھے محسوس ہوا کہ کتنی خوفناک سازش ہے جماعت کے خلاف، جسے ہر قیمت پر مجھے نا کام کرتا ہے۔اور وہ سازش یہ تھی کہ جب خلیفہ وقت کو قتل کیا جائے اور جماعت اس پر ابھرے تو پھر نظام خلافت پر حملہ کیا جائے، ربوہ کو ملیا میٹ کیا جائے فوج کشی کے ذریعہ اور وہاں نیا انتخاب نہ ہونے دیا جائے خلافت کا، وہ انسٹیٹیوشن ختم کر دی جائے۔اس کے بعد دنیا میں کیا باقی رہ جاتا۔خدا تعالیٰ کے اپنے کام ہوتے ہیں اور جن حالات میں اللہ تعالی نے نکالا یہ اس کے کاموں ہی کا ایک ثبوت ہے۔یہ نہیں میں کہتا کہ یہ ہو سکتا تھا۔ناممکن تھا کہ یہ ہو جاتا ورنہ اللہ تعالیٰ کی ذات پر سے ایمان اٹھ جانتا دنیا کا کہ خدا نے خود ایک نظام قائم کیا ہے، خود اس کے ذریعہ ساری دنیا میں اسلام کے غلبہ کے منصوبے بنا رہا ہے اور پھر اس جماعت کے دل پر ہاتھ ڈالنے کی دشمن کو تو فیق عطا فرما دے جس جماعت کو اپنے دین کے احیاء کی خاطر قائم کیا ہے۔یہ تو ہو ہی نہیں سکتا تھا۔اسی لئے خدا تعالٰی نے یہ انتظام فرمایا کہ دشمن کی ہر تدبیر نا کام کر دی اس ایک تدبیر کو نا کام کر کے۔اتنا بڑا احسان ہے خدا تعالی کا کہ اس کا جتنا بھی شکر اور کیا جائے اتنا ہی کم ہے۔آپ سوچ بھی نہیں سکتے کہ کتنے خوفناک نتائج سے اللہ تعالی نے جماعت کو بچالیا، کتنی بڑی سازش کو کلیتہ نا کام کر دیا۔“ ( خطبہ جمعہ فرمودہ 28 رو سمبر 1984ء، خطبات ظاہر جلد 3 صفحہ 757-769)