سلسلہ احمدیہ — Page 430
430 میں مرزا طاہر احمد کو چیلنج دیتا ہوں کہ وہ ہمارے ساتھ اس بات پر مباہلہ کریں کہ مرزا غلام احمد سچا نبی تھا یا جھوٹا۔ہمارا دعویٰ اور ایمان ہے کہ سرور دو عالم علام آخری نبی ہیں ان کے بعد کسی قسم کا کوئی نبی نہیں آئے گا اور جو بھی نبوت کا دعویٰ کرے گا وہ جھوٹا اور کذاب ہوگا۔وہ حضرات جو بیچارے کسی لالچ و طمع کی بناء پر قادیانیت قبول کر لیتے ہیں انہیں قربانی کا بکرا بنانے کی بجائے مرزا صاحب سامنے آجائیں تا کہ ایک ہی بار فیصلہ ہو جائے۔“ یہ 7 مارچ 1985ء کو ان کا چیلنج شائع ہوا ہوا تھا اور قطعا میرے علم میں نہیں تھا۔لیکن جب میں نے تحقیق کروائی، اس وجہ سے کروائی کہ یہ جس قسم کے واقعات ہیں یہ کوئی اتفاقی حادثات نظر ہی نہیں آتے۔صاف پتہ چل رہا ہے کہ مباہلہ کا کوئی اثر ہے۔تب پتہ چلا کہ وہ اس بدبختی کی وجہ سے مارا گیا ہے۔مجھے کہتا ہے کہ جماعت کو قربانی کا بکرا نہ بناؤ خود کیوں نہیں بنتے تا کہ ایک دفعہ قصہ پاک ہو جائے۔پس خدا تعالیٰ نے اس کو قربانی کا بکرا بنا دیا اور وہ قصہ ہمیشہ کے لئے پاک کر دیا اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی صداقت پر اس کی یہ ہلاکت ہمیشہ کے لئے مہر تصدیق بن کر ثبت ہو چکی ہے۔کوئی طاقت اب دنیا میں نہیں جو اس صداقت کی گواہی کو مٹا سکے۔جو دوسرے حوالے جن سے مجھے تعجب ہوا تھا جس میں اس نے انکار کیا ہوا ہے وہ ہیں "صراط مستقیم ، برمنگھم جولائی 1988ء۔اس میں لکھتا ہے: اس لئے اب مرزا طاہر احمد کو مرزا صاحب کی نمائندگی کرنے یا فریق بننے کی کوئی ضرورت نہیں۔کیونکہ جس نے نبوت کا دعویٰ کیا تھا وہ اپنے اعلان یا دعا کے انجام سے دو چار ہو چکا ہے۔" چونکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تکذیب پر اس نے تلبیس کی تھی یعنی تضحیک کی خاطر حق کی تلیس کی تھی حق کو چھپایا تھا اور پہلے خود چیلنج دے بیٹھا تھا اس لئے خدا کی سزا سے بچ نہیں سکا۔اس میں ایک بات اور لکھی جہاں تک مبلہ کا تعلق ہے وہ تو نبوت کا دعویٰ کرنے والا ہی دے سکتا ہے۔گویا پہلا مباہلہ جب اس کا چیلنج دیا تھا وہ نبوت کا دعویٰ کر رہے تھے اس وقت اور جھوٹا دعویٰ نبوت کرنے