سلسلہ احمدیہ — Page 429
429 مولوی محمود احمد میر پوری کی وفات۔۔۔ایک مولوی محمود احمد صاحب میر پوری یہاں ہوا کرتے تھے۔سیکرٹری جنرل اسلامک شریعت کونسل برطانیہ، ناظم اعلی مرکزی جمعیت اہل حدیث برطانیہ، ایڈیٹر صراط مستقیم بر محکم برطانیہ مباہلہ کے منگھ کچھ عرصہ بعد انہوں نے یہ اعلان شائع کیا کہ مباہلہ تو یونہی فضول بات ہے لوگ مر بھی جاتے ہیں خوامخواہ پھر احمدیوں کو عادت پڑتی ہے بتانے کی کہ یہ اس کی وجہ سے مر گیا۔ضیاء بھی اسی طرح اتفاقا مرا ہے اور دیکھ لواحمدیوں نے کیا کہنا شروع کر دیا ہے۔اس لئے یہ لغو بات ہے۔اور پھر یہ بھی کہا کہ مباہلہ کے چیلنج دینا تو صرف نبیوں کا کام ہے اور مرزا طاہر احمد کا دعویٰ ہی نہیں نبوت کا اس لئے اس کو کیا حق ہے مباہلہ کا چیلنج دینے کا۔اس کے بعد یہ واقعہ ہوا جو بظاہر حیرت انگیز تھا اور یوں معلوم ہوتا تھا کہ خدا کی تقدیر ظاہر ہوئی ہے کہ ایک ایسا حادثہ ہوا جس کے متعلق سب کو تعجب ہے کہ حادثہ ہونا چاہیئے ہی نہیں تھا۔اس کی تفاصیل اخبارات میں بڑی درد ناک چھپی اور جب ان کی لاش گھر لائی گئی اور ان کے ساتھ ان کے عزیزوں کی ساس کی اور بچے وغیرہ کی تو جس جگہ وہ لاش رکھی گئی تھی وہ صحن ہی گر کر نیچے گر پڑا اور اس کے نتیجے میں پھر کثرت سے لوگ زخمی ہوئے ، واویلا پڑ گیا، کہرام مچ گیا۔تو یہ واقعہ ایسا تھا جس سے مجھے خیال ہوا کہ اس کی تحقیق کروانی چاہئے کہ اگر ایک شخص مباہلہ کو قبول کرنے سے انکار کر رہا ہے تو اس کے اوپر خدا تعالی کیوں ایسا ایک دم غضبناک ہوا۔اس کے لئے کوئی وجہ ہونی چاہئے، اس کی تحقیق ہونی چاہئے۔چنانچہ جب میں نے تحقیق کی تو ایک حیرت انگیز بات یہ معلوم ہوئی کہ انہی مولوی صاحب نے 7 مارچ 1985ء کو مجھے چیلنج دیا ور وہ چیلنج چھپا ہوا روز نامہ جنگ میں موجود ہے۔وہی شخص جو کہتا ہے کہ نبوت کے دعویٰ کے سوا کوئی چیلنج دے ہی نہیں سکتا، وہی شخص جو کہتا ہے کہ یہ بہانہ خوریاں ہیں اور یہ کوئی نشان نہیں وہ اس سے پہلے مجھے چیلنج دے چکا تھا۔پس جب میں نے وہ چیلنج دیا معا دونوں فریق میں مقبولیت ہو گئی اس کی۔کیونکہ وہ پہلے ہی چیلنج دے چکا تھا اس میں ذکر کرتا ہے کہ جب وہ قبول کرے گا اس وقت مباہلہ ہو جائے گا۔پس یہ وجہ تھی، خدا کی تقدیر یونہی بے وجہ کوئی کام نہیں کیا کرتی۔اب میں اس پس منظر میں ان کا یہ چیلنج پڑھ کر آپ کو سناتا ہوں اس سے آپ کو اندازہ ہوگا کہ کس طرح خدا کی تقدیر باریک نظر سے فیصلے فرماتی ہے۔وہ لکھتے ہیں: