سلسلہ احمدیہ — Page 431
431 والا ویسے ہی ہلاک ہو جایا کرتا ہے۔10 اکتوبر 1988ء کو اس کار کے حادثے کی خبر چھپی ہے۔واقعہ یہ بھی ایک دردناک خبر ہے۔اس پر ہمیں خوشی نہیں ہے۔پھر برمنگھم کے Daily News میں جو واقعہ شائع ہوا ہے غم زدہ بیوہ کو ایک اور حادثہ سے دو چار ہونا پڑا اور اس طرح سوگواروں کا ہجوم ( یہ انگریزی اخبار میں شائع ہوا اس کا ترجمہ کیا گیا ہے۔ہجوم کا ہجوم تہہ خانے میں جا پڑا اور پھر اس سے بہت سے زخمی ہوئے۔قریباً پچیس کے قریب اور واویلا پڑ گیا۔اس پر ہمیں کوئی خوشی نہیں، حقیقت ہے اللہ بہتر جانتا ہے کہ یہ تکلیف دہ واقعہ ہے اور کسی کی تکلیف پر مومن خوش نہیں ہوا کرتا لیکن خدا کے نشان پر ضرور خوش ہوا کرتا ہے۔مولوی منظور احمد چنیوٹی کی ذلت ورسوائی اب میں آپ کے سامنے ایک دوسرے شخص کا ذکر کرتا ہوں جو دریدہ دہنی میں آج اپنی مثال آپ ہے اور ان صاحب کا نام ہے منظور احمد چنیوٹی۔انہوں نے ایک اعلان شائع کیا مباہلہ کے جواب میں اور اخبار جنگ لندن میں ایک سرخی لگی 21 را کتوبر 1988 ء کو گلے سال 15 رستمبر تک میں تو ہوں گا قادیانی جماعت زندہ نہیں رہے گی، مولانا منظور احمد چنیوٹی کا جوابی چیلنج جب یہ بات شائع ہوئی تو اس کے جواب میں میں نے ایک خطبہ پڑھا اور خطبے میں اس کا ذکر کیا اور میں نے کہا منظور چنیوٹی صاحب ہمیشہ بہانے سے کسی نہ کسی طرح اپنے فرار کی راہ اختیار کر لیا کرتے تھے نہ اب قابو آ گئے ہیں۔کھلم کھلا انہوں نے یہ کہ دیا، اعلان یہ کیا، جماعت احمد یہ نہیں رہے گی اور اس اعلان کی مماثلت کے طور پر مجھے لیکھرام یاد آیا اور اس کا بھی میں نے ذکر کیا کہ اس نے بھی اسی قسم کا ایک اعلان کیا تھا کہ حضرت مرزا صاحب تو جھوٹے نکلیں گے اور میں اس طرح سچا نکلوں گا کہ جس عرصے میں یہ کہتے ہیں کہ میں مٹنے والا ہوں ، جماعت احمدیہ صفحہ ہستی سے مٹ جائے گی۔تو میں نے کہا ایک وہ لیکھر ام تھا ایک آج ام پیدا ہوا ہے جس نے یہ چیلنج کیا ہے۔اس کے نتیجے میں بعد میں ان کو بڑی سخت گھبراہٹ ہوئی کہ یہ تو میں ایسے چیلنج کر بیٹھا ہوں کہ جو بظاہر پورا ہوتے دکھائی نہیں دیتا تو انہوں نے ایک پریس کانفرنس میں شائد یا ویسے ہی کسی جگہ اعلان کیا اور روزنامہ جنگ لاہور میں 30 جنوری 1989ء کی اشاعت میں یہ آپ