سلسلہ احمدیہ — Page 428
428 که ضیاء صاحب آسمان کی طرف اٹھتے ہیں اور ایک غبارے کی طرح پھٹ کر تباہ ہو جاتے ہیں۔اب ایک آدمی کے عام تصور میں یہ بات نہیں آتی کہ آسمان کی طرف اٹھے اور غبارے کی طرح پھٹ کر تباہ ہو جائے اور بالکل ایسا ہی واقعہ ہوا ہے۔ایک شخص نے رویا میں دیکھا کہ شیخ مبارک احمد صاحب امریکہ والے جو آج کل امریکہ میں ہیں وہ کہ رہے ہیں کہ ضیاء کا جہاز ہوا میں تباہ ہو جائے گا اور یہ ساری رؤیاء پہلے لکھ کر انہوں نے بھیجی ہوئی ہیں۔ایک شخص نے لکھا کہ مجھے خدا تعالیٰ نے واضح طور پر خبر دی ہے کہ 1988 ء کا سال ضیاء کے انجام کا سال ہے۔پس اور بھی اب میں مطالعہ کروارہا ہوں رجسٹروں کا۔ان کی تاریخیں، خط کس تاریخ کو ملے، کون کون صاحب ہیں۔۔۔جماعت کے ازدیاد ایمان کے لئے اور دنیا کے لئے ہدایت کا ذریعہ بنانے کی خاطر انشاء اللہ ان چیزوں کو شائع کر دیا جائے گا۔اب میں ایک ایسے شخص کا ذکر کرتا ہوں جس کے انجام کی جماعت احمد یہ انگلستان گواہ ہے اور یہ بھی ایسا انجام ہے جو اتفاقی حادثے کا نتیجہ نہیں بلکہ اس کا گہرا مباہلہ سے تعلق ہے۔ضمنا میں آپ کو یہ بتا دوں کہ دنیا میں لوگ مرتے ہی رہتے ہیں، احمدی بھی فوت ہوئے اس عرصے میں، بغیر احمدی بھی کثرت کے ساتھ فوت ہوئے۔سینکڑوں احمدی ہوئے تو کھوکھہا غیر احمدی بھی فوت ہوئے۔نہ کبھی میں نے سوچا، نہ آپ کو سوچنا چاہئے کہ مباہلہ کے نتیجے میں لوگ مر رہے ہیں۔اس معاملے میں احتیاط ضروری ہے۔خدا تعالیٰ کی تقدیر جتنا نشان دکھائے اسی کو قبول کرنا چاہیئے اور اپنی طرف سے نشان بنا بنا کر خدا کی طرف منسوب نہیں کرنے چاہئیں۔یہ ایک بہت ہی جاہلانہ طریق ہے کہ ہم سوچ سوچ کے آپ ہی خدا نے نشان نہیں دیئے ہم بنالیتے ہیں۔جس طرح مولویوں نے کیا کہ خدا نے ان کو نہیں مارا، ہم مارتے ہیں۔اس کو تو ہم ایک جہالت کے طور پر رڈ کرتے ہیں۔نہایت ہی بیوقوفوں والا طریق ہے اس لئے جماعت احمدیہ کو تقوی کی باریک راہیں اختیار کرنی چاہئیں۔اتنی بات کریں جس کے متعلق آپ کامل یقین کے ساتھ شواہد پر قائم ہوتے ہوئے دنیا کو بتا سکیں، خود یہ یقین رکھتے ہوں کہ خدا تعالی کی طرف سے ایک نشان ہے۔پس ان میں سے ایک میں نے چنا ہے۔