سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 417 of 938

سلسلہ احمدیہ — Page 417

417 آندھرا پردیش میں بطور مبلغ مقرر ہوئے۔اس کے بعد موصوف کیرلہ میں کوڈنگلور بطور مبلغ مقرر ہوئے۔مکرم مولوی محمد سلیم صاحب جو کوڈنگلور کے رہنے والے تھے اس بستی کے ارد گرد موصوف کی تبلیغ کے نتیجہ میں 78 / افراد کو بیعت کرنے کی توفیق ملی۔وہاں ایک شاندار مسجد تعمیر ہوئی جس کا نام خلیفہ وقت نے دار العافیت' رکھا۔مباہلہ کے بعد کوڈیا تھور کے مضافات ملکم ، چنیدہ منگلم وغیرہ کے لوگوں نے بیعت کی اس میں جماعت اسلامی کے سرگرم ممبران بھی شامل ہیں۔اس کے بعد کوڈنگلور کے ہی رہنے والے اور جماعت اسلامی کے ایک سرگرم رکن مکرم مولوی محمد یوسف صاحب کو بھی بیعت کرنے کی توفیق ملی۔جماعت اسلامی کے سر کردہ مہران پی۔کے۔شمس الدین صاحب، پی۔پی بیران صاحب وغیرہ افراد قابل ذکر ہیں۔علاوہ ازیں بارہ خاندان بھی بیعت کر کے جماعت میں شامل ہوئے۔الغرض مباہلہ کے بعد بیعت کر کے جماعت میں شامل ہونے والے سینکڑوں افراد کا اس وقت نام لینا ممکن نہیں۔ان بیعت کنندگان میں زیادہ تر جماعت اسلامی کے سرکردہ ممبران اور ان کے عہدیداران تھے۔انجمن اشاعت اسلام کے صدر کا کیری عبد اللہ نے اپنی شکست کا اعتراف کرتے ہوئے ایک موقع پر کہا۔جماعت احمدیہ کا ہم مقابلہ نہیں کر سکتے۔ان کے اب دوخلیفہ ہو گئے ہیں۔ایک خلیفہ امسیح پنجم، دوسرا ایم۔ٹی۔اے کے ذریعہ وعظ و نصیحت کرتے رہتے ہیں۔" مباہلہ کے وقت کیرلہ میں 33 جماعتیں تھیں۔مباہلہ کے بعد 18 / جماعتوں کا اضافہ ہوا۔مباہلہ سے قبل کیرلہ میں 34 مساجد تھیں۔مباہلہ کے بعد 8 مزید مساجد کی تعمیر ہوئی۔کئی مساجد کی renovation کی گئی۔کوڑیا تھور میں مباہلہ سے قبل ایک چھوٹی سی مسجد تھی۔اب یہ مسجد بھی دو منزلہ نہایت خوبصورت اور پُر وقار مسجد میں تبدیل ہو چکی ہے۔مباہلہ کے بعد انجمن اشاعت اسلام منتشر ہو گئی۔اب اس کا نام لینے والا بھی کوئی نہیں۔اس کا سیکرٹری عبد الرحمن اب خاموش ہے۔خدا تعالیٰ کا فضل و احسان ہے کہ مباہلہ کے بعد کیرلہ کے احباب ومستورات میں مالی قربانی اور لازمی چندہ جات، حصہ آمد، چندہ عام، چندہ تحریک جدید اور چندہ وقف جدید میں ہندوستان کی دیگر جماعتوں کی نسبت بہت اونچا مقام حاصل ہے۔الحمد للہ علی ذالک۔