سلسلہ احمدیہ — Page 365
365 جھگڑا بہت طول پکڑ گیا ہے اور سراسر یکطرفہ مظالم کا یہ سلسلہ بند ہونے میں نہیں آرہا۔جماعت احمدیہ نے ہر لحاظ سے صبر کا نمونہ دکھایا اور محض اللہ ان یکطرفہ مظالم کو مسلسل حو صلے سے برداشت کیا اور جہاں تک ظالموں کو سمجھانے کا تعلق ہے، ہر پر امن ذریعہ کو اختیار کرتے ہوئے معاندین و مکڈ بین کے ائمہ کو ہر رنگ میں سمجھانے کی کوشش کی اور ایسی حرکتوں کے عواقب سے متنبہ کیا اور خوب کھلے لفظوں میں باخبر کیا کہ تم ی ظلم محض جماعت احمدیہ پر احمدیہ پر نہیں بلکہ عالم اسلام اور خصوصیت سے پاکستان کے عوام پر کر رہے ہو اور دھوکہ اور فریب سے ان کو ان مظالم میں بالواسطہ یا بلاواسطہ شریک کر کے خدا تعالیٰ کی ناراضگی کا مورد بنارہے ہو اور دن بدن جو نت نئے مصائب پاکستان کے غریب عوام پر ٹوٹ رہے ہیں ان کے اصل ذمہ دار تم ہو اور یہ مصائب خدا تعالیٰ کی بڑھتی ہوئی ناراضگی کے آئینہ دار ہیں۔لیکن افسوس کہ ظلم کرنے والے ہاتھ رکنے کی بجائے ظلم و تعدی میں مزید بڑھتے چلے گئے اور اب معاملہ اس حد تک پہنچ چکا ہے کہ جماعت احمد یہ اس ظلم کو مزید برداشت نہیں کر سکتی۔لہذا ایک لمبے صبر اور غور وفکر اور دعاؤں کے بعد میں بحیثیت امام جماعت احمد یہ یہ فیصلہ کرتا ہوں کہ تمام مکڈ بین اور معاندین کو جو عمدا اس شرارت کے ذمہ دار ہیں خواہ وہ کسی طبقہ سے تعلق رکھتے ہوں قرآنی تعلیم کے مطابق کھلم کھلا مباہلے کا چیلنج دوں اور اس قضیہ کو اس دعا کے ساتھ خدا تعالیٰ کی عدالت میں لے جاؤں کہ خدا تعالیٰ ظالموں اور مظلوموں کے درمیان اپنی قہری تھیلی سے فرق کر کے دکھا دے۔ہم ان دونوں پہلوؤں کو پیش نظر رکھتے ہوئے دو طریق پر مباہلہ کا چیلنج شائع کر رہے ہیں۔ہر مکذب، مگھر کو کھلی دعوت ہے کہ مباہلہ کے جس چیلنج کو چاہے قبول کرے اور میدان میں نکلے تا کہ دنیا بھر کے سادہ لوح مسلمان یا ایسے علماء اور عوام الناس جو احمدیت کے متعلق کوئی ذاتی علم نہیں رکھتے اور سنی سنائی باتوں پر یقین کر کے جماعت کی مخالفت پر کمر بستہ ہیں، خدا تعالی کی طرف سے ظاہر ہونے والے آسمانی فیصلہ کی روشنی میں سچے اور جھوٹے کے درمیان تمیز اور تفریق کر سکیں۔چیلنج نمبر 1 جہاں تک بانی حضرت مرزا غلام احمد قادیانی کے سچے یا جھوٹے ہونے کا