سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 366 of 938

سلسلہ احمدیہ — Page 366

366 تعلق ہے، جنہوں نے امت محمدیہ میں مبعوث ہونے والے مسیح موعود اور مہدی معہود ہونے کا دعوی کیا، ہمیں مباہلے کا کوئی نیا چیلنج پیش کرنے کی ضرورت نہیں۔خود بانی حضرت مرزا غلام احمد قادیانی کے اپنے الفاظ میں ہمیشہ کے لیے ایک کھلا چیلنج موجود ہے۔ہم سب مکہ بین و گھرین کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ اس چیلنج کو غور سے پڑھ کر یہ فیصلہ کریں کہ کیا وہ اس کے عواقب سے باخبر ہو کر اس کو قبول کرنے کے لئے جرات کے ساتھ تیار ہیں۔آپ کے الفاظ میں وہ چیلنج حسب ذیل ہے۔حمه ہر ایک جو مجھے کڈ اب سمجھتا ہے اور ہر ایک جو مگار اور مفتری خیال کرتا ہے اور میرے دعوی مسیح موعود کے بارہ میں میرا مکذب ہے اور جو کچھ مجھے خدا تعالی کی طرف سے وحی ہوئی اس کو میرا افتراء خیال کرتا ہے وہ خواہ مسلمان کہلاتا ہو یا ہندو یا آریہ یاکسی مذہب کا پابند ہو اس کو بہر حال اختیار ہے کہ اپنے طور پر مجھے مقابل پر رکھ کر تحریری مباہلہ شائع کرے۔۔۔کہ میں خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ مجھے یہ بصیرت کامل طور پر حاصل ہے کہ یہ شخص ( اس جگہ تصریح سے میرا نام لکھے) جو مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کرتا ہے در حقیقت کذاب ہے اور یہ الہام جن میں سے بعض اس نے اس کتاب میں لکھے ہیں یہ خدا کا کلام نہیں ہے بلکہ سب اس کا افتراء ہے اور میں اس کو در حقیقت اپنی کامل بصیرت اور کامل غور کے بعد اور یقین کامل کے ساتھ مفتری اور کذاب اور دنبال سمجھتا ہوں۔پس اے خدائے قادر اگر تیرے نزدیک یہ شخص صادق ہے اور کذاب اور مفتری اور کافر اور بے دین نہیں ہے تو میرے پر اس تکذیب اور توہین کی وجہ سے کوئی عذاب شدید نازل کرور نہ اس کو مذاب میں مبتلا کر۔آمین۔ہر ایک کے لئے کوئی تازہ نشان طلب کرنے کے لئے یہ دروازہ کھلا ہے۔“ حقیقت الوحی روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 72،71) چونکہ بانی سلسلہ احمد یہ اس وقت اس دنیا میں موجود نہیں اور مباہلہ کا چیلنج قبول کرنے والے کے سامنے آپ کی نمائندگی میں کسی فریق کا ہونا ضروری ہے اس لئے میں اور جماعتِ احمد یہ اس ذمہ داری کو پورے شرح صدر، انبساط اور کامل یقین کے ساتھ قبول کرنے کا اعلان کرتے ہیں۔