سلسلہ احمدیہ — Page 223
223 بوسنیا (BOSNIA) بوسنیا کے بعض پرانے اخبارات سے پتہ چلا ہے کہ 1930ء میں یہاں احمدیت کا تعارف پہنچا اور بعض رسائل نے اس زمانہ میں کافی مثبت طور پر جماعت کا ذکر کیا۔اس کے بعد کے بعض رسائل میں جو 1937ء کے ہیں حضرت مولانا محمد دین صاحب کا ذکر ملتا ہے کہ وہ بلغراد میں احمدیت کی تبلیغ کر رہے ہیں۔یہ ذکر مثبت اور منفی دونوں طور پر پایا جاتا ہے۔یہاں کے حالات کی بنا پر مولانامحمد دین صاحب کو جلد ہی یوگوسلاویہ سے واپس جانا پڑا۔ایک لمبے عرصہ تک ایسی کوئی صورت نہ بنی کہ جماعت یہاں مبلغ بھجوائی یا پیغام بھجواتی۔6 اپریل 1992ء کو دنیا نے بوسنیا کو ایک آزاد ملک کی حیثیت سے قبول کیا تو یہاں جنگ چھڑ گئی۔اس جنگ میں قریبا دولاکھ مسلمانوں کو قتل کیا گیا اور کئی لاکھ نے یہاں سے ہجرت کی۔یہ مہاجر مین جب دوسرے یورپی ممالک میں گئے تو حضرت خلیفتہ اسیح الرابع رحمہ اللہ کے ارشادات کی بنا پر جہاں تک ہوسکا احمدیوں نے ان مظلوموں کی خدمت کی۔بوسنیا میں جاری جنگ 1995 ء کے آخر میں اختتام پذیر ہوئی۔تب جماعت نے یہاں مشن کھولنے کا فیصلہ کیا۔28 ستمبر 1996ء کو مرکزی مبلغ نے بوسنیا میں تزلہ ( Tuzla) کے قریب ایک چھوٹے سے شہر غرا چانقہ (Gracanica) میں ایک چھوٹے سے مکان سے کام کا آغاز کیا۔پھر اکتوبر 1997ء سے سرائیوو سے کام کا آغاز ہوا۔25 مارچ2002ء کو جماعت نے مشن ہاؤس کے طور پر ایک عمارت خریدی۔یکم مارچ 2003 ء سے اس مشن سے با قاعدہ کام شروع ہو گیا۔اس کا نام حضرت خلیفتہ اسیح الرابع رحمہ اللہ نے مسجد بیت السلام رکھا۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے بوسنین زبان میں بہت سالٹریچر تیار ہو کر طبع ہوا۔اپریل 2003 یعنی دور خلافت رابعہ کے اختتام تک اللہ تعالیٰ کے فضل سے اس ملک کے 2 رصوبوں میں 5ر جماعتیں قائم ہو چکی تھیں۔اور انداز 100 راحمدی یہاں موجود تھے۔نیز یہاں کی مقامی زبان میں ہزاروں کی تعداد میں لٹریچر تیار ہو کرطبع ہو چکا تھا۔