سلسلہ احمدیہ — Page 195
195 ہوئے ہیں۔ان کو میں نے بھیجوایا۔۔۔وہاں کے مسلمان لیڈروں سے انہوں نے رابطہ پیدا کیا۔اور ان کو جب احمدیت کا پیغام دیا اور خصوصیت سے ایک چھوٹا سا رسالہ ان کو پڑھایا جو میں اہل روس کے نام لکھ چکا تھا ( وہ جو طبع ہو چکا تھا۔) اس کا نام ہے کہ Message with love to the۔nations of U۔S۔S۔R روسی زبان میں اس کا ترجمہ ہو چکا ہے۔اس میں خوب کھول کر فرق بتادیا گیا ہے۔ہم کہاں ہیں، ہمیں دوسرے مسلمان کسی صورت میں دیکھتے ہیں ، بنیادی فرق کیا ہیں اور کوئی بات چھپا کے نہیں رکھی گئی۔وہ پڑھنے کے بعد ان کے بعض لیڈروں نے وہیں احمدیت میں شامل ہونے کا اعلان کر دیا اس کے بعد ان کے دو مرد اور ایک خاتون پر مشتل وندلندن بھی آیا اور حضرت خلیفہ مسیح الرابع رحمہ اللہ سے نشستیں ہوئیں جن میں جماعت کا تفصیلی تعارف انہیں کروایا گیا۔حضور رحمہ اللہ نے مزید فرمایا : م اللہ تعالیٰ کے فضل سے منگولیا میں بھی بہت عمدگی کے ساتھ جماعت احمدیہ کا تعارف ہو چکا ہے اور قدم جم چکے ہیں۔“ اس ملک کے شمال مشرق میں رشیا اور جنوب مغرب میں چین کا ملک ہے۔گویا اس کے چاروں طرف دو بڑی طاقتیں ہیں۔اس ملک میں مسلمانوں کی تعداد ایک لاکھ چالیس ہزار ہے جس میں سے تقریبا ایک لاکھ ملک کے انتہائی مغربی علاقہ میں آباد ہیں۔یہاں لندن سے ماہ مئی 1991ء میں کلیم خاور صاحب کو منگولیا کے دورہ پر بھجوایا گیا۔جہاں انہوں نے مسلمان لیڈروں سے ملاقاتیں کیں۔اور خصوصا ملک کے انتہائی مغربی حصہ میں جہاں تقریبا ایک لاکھ مسلمان آباد ہیں وہاں کے حکومتی پارٹی کے سر کردہ احباب سے رابطے کئے اور احمدیت کا پیغام ان تک پہنچایا۔اس موقع پر اللہ تعالیٰ کے فضل سے 6 بیعتیں ہوئیں۔دو مختلف مقامات پر جا کر ایک ہزار سے