سلسلہ احمدیہ — Page 194
194 ذریعہ دوسروں تک بھی پیغام حق پہنچایا۔اور اپنے قیام کے دوران تبلیغ کا سلسلہ جاری رکھا۔اللہ تعالیٰ نے ان کی کوششوں کو قبول فرمایا۔ان کی وہاں سے روانگی سے قبل ہی ترجمان ٹیچر مع فیملی بیعت کر کے احمدیت میں شامل ہو گئے اور وہاں کے پہلے احمدی ہونے کا اعزاز پایا۔بعد میں مزید دو خاندانوں نے بھی بیعت کی سعادت پائی۔آسٹریلیا سے مبلغین با قاعدہ یہاں کا دورہ کرتے ہیں اور اپنے رابطے اور تعلقات بڑھا رہے ہیں۔منگولیا (MANGOLIA) حضرت خلیفہ مسیح الرابع حمہ اللہ نے جلسہ سالانہ 1991ء کے موقع پر اپنے خطاب میں منگولیا میں احمدیت کے نفوذ کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: منگولیا میں بھی خدا تعالیٰ کے فضل سے احمدیت کی داغ بیل ڈالی جا چکی ہے۔منگولیا کا قصہ یہ ہے کہ کچھ عرصہ پہلے وہاں کے ایک مسلمان علاقہ کے نمائندہ ممبر پارلیمنٹ انگلستان تشریف لائے۔یہاں ملاقاتوں کے دوران کسی ایسے شخص نے جو احمدیت سے واقف تھا ان کو کہا کہ اگر تمہیں اسلام میں دلچسپی ہے تو جماعت احمدیہ سے رابطہ پیدا کرو کیونکہ اصل سچا اسلام تو انہی کے پاس ہے۔چنانچہ وہ کہنے والا اگر چہ احمدی نہیں تھا لیکن اس کی راہنمائی کر گیا۔وہ مجھے ملنے کے لئے تشریف لائے ، ان سے بہت سی ملاقاتیں ہوئیں لیکن ان کا کچھ رحجان عرب دنیا کی طرف تھا، ایران کی طرف تھا، انڈونیشیا کی طرف تھا اور ہو سکتا ہے چونکہ سیاسی انسان تھے اس لئے وہ سمجھتے تھے کہ اس چھوٹی سی غریب جماعت سے کیا رابطہ کرنا ہے۔بڑے بڑے اسلامی ممالک سے رابطہ ہونا چاہئے۔مگر بہر حال یہ ان کا احسان ہے کہ اپنے وعدے کے مطابق واپس اس ملک میں جا کر انہوں نے مجھے دعوت نامہ بھجوایا کہ اپنے نمائندے کو آپ کو بھیجوا دیں۔ان کی طرف سے دعوت کے بغیر نمائندہ وہاں جا نہیں سکتا تھا۔“ چنانچہ ان کی دعوت پر فور آویزہ مل گیا اور ہمارے خاور صاحب جو روسی زبان کے ماہر کے طور پر تیار