سلسلہ احمدیہ — Page 97
97 میں جماعت کینیڈا کو تحریک فرمائی کہ جماعت امریکہ کی طرح وہ بھی آگے بڑھیں اور ضرورتوں کو پورا کرنے کے لئے کمر ہمت کس لیں اور تین سال کے اندراندر مبلغ چھ لاکھ ڈالر کینیڈا میں نئے مشن ہاؤسز اور مساجد کے قیام اور موجودہ مشن ہاؤسز کی توسیع کے لئے پیش کریں اور ہر فرد اپنی توفیق کے مطابق قربانی پیش کرے۔( روزنامہ الفضل یکم جون 1983ء) احباب جماعت نے اس تحریک میں والہانہ حصہ لیا۔چنانچہ ایک ماہ سے بھی کم عرصہ میں یعنی 11 مئی 1983 ء تک دو لاکھ چار ہزار تین صد پینتیس (204,335 ڈالرز کے وعدے ہو گئے۔1988ء کے جلسہ سالانہ پر حضور نے کینیڈا کی بابت فرمایا: کینیڈا میں جو پہلے مشن موجود تھے ان کو وسعت دی گئی ہے۔اگر چہ نئی جگہ میں مشن بنانے کی توفیق نہیں ملی لیکن جہاں مشن بہت چھوٹے تھے یا ان کی زمین بہت تھوڑی تھی ان کو وسعت دینے کی توفیق ملی ہے۔“ ضمیمہ ماہنامہ تحریک جدید اگست 1988ء) پھر یکم جولائی 1988ء کو حضور نے کینیڈا میں نئی مساجد کی تعمیر کے لئے 25 لاکھ ڈالر جمع کرنے کی تحریک فرمائی۔چنانچہ 12 سے زائد مقامات پر نئے مراکز اور مشن ہاؤسز قائم ہو گئے۔1984ء میں کینیڈا میں پانچ مشن ہاؤسز تھے۔دور ہجرت میں پانچ نئے مشن ہاؤسز کا اضافہ ہوا۔وہاں کے بعض پرانے مشن ہاؤسز فروخت کر کے ان کی جگہ بیسیوں گنا بڑے مشن ہاؤسز خریدے گئے۔مثلاً 1984 ء تک ٹورانٹو میں تین بیڈ کا ایک مشن ہاؤس تھا۔1985ء میں ٹورانٹو کے علاقہ میپل میں کینیڈا جماعت کے مرکز کے لئے 25 را یکٹر زمین خریدی گئی۔یہ جگہ وان (Vaughan) سٹی میں ہے جو ٹورانٹو کے شمال میں واقع ہے۔یہ کینیڈا کی مشہور تفریح گاہ کینیڈاؤ نڈرلینڈ کے شمال میں تھوڑی سی مسافت پر ہے۔یہ تین منزلہ عمارت 22 کمروں پر مشتمل تھی۔اس میں ضروری تبدیلیوں کے بعد 1986ء میں یہاں نقل مکانی کی گئی۔اس مشن کا نام حضرت خلیفہ اصبح الرابع رحمہ اللہ نے بیت الاسلام رکھا۔اس وسیع زمین پر مرکزی مشن ہاؤس قائم ہوا اور بعد ازاں اس وقت کی شمالی امریکہ کی سب سے بڑی مسجد مسجد بیت الاسلام تعمیر ہوئی۔اس تعمیر