سلسلہ احمدیہ — Page 705
705 کام کو بھی وسعت دی۔آپ کی کوششوں سے غزہ میں ایک جماعت قائم ہوئی۔علاقہ میں احمدیت کی مخالفت نے زور پکڑا لیکن پھر بھی لوگوں کی توجہ احمدیت کی طرف ہوئی۔لوگوں کی شکایات کی وجہ سے ایک نواحمدی کو ایک ماہ جیل میں بھی رہنا پڑا۔بیعت کرنے والوں میں بعض تعلیم یافتہ با اثر احباب مثلاً احمد حسن سردانی صاحب اور ہاشم نعمان صاحب بھی شامل تھے۔۱۹۶۸ء میں کہا بیر کی جماعت نے اپنے قیام کے چالیس سال مکمل ہونے کی تقریبات بھی منائیں۔مکرم حافظ بشیر الدین عبید اللہ صاحب نے تقریباً چار سال یہاں پر خدمات سرانجام دیں۔مرکز کی ہدایت پر ۱۹۷۲ء میں مکرم مولانا محمد منور صاحب بطور مبلغ کینیا سے کہا بیر تشریف لے گئے۔اور ایک سال وہیں پر مقیم رہے۔آپ نے احباب کی تربیت کے علاوہ عرب آبادی کے تمام شہروں کا دورہ کیا۔اور یروشلم اور الخلیل جا کر وہاں پادریوں سے مذہبی گفتگو کی اور یہودی علماء سے بھی ملاقات کی۔آپ نے غزہ کی جماعت کی رجسٹریشن بھی کرائی۔حضرت مولانا ابوالعطاء صاحب جالندھری جب یہاں پر کام کر رہے تھے اس وقت یہاں پر یوم التبلیغ منایا جاتا تھا لیکن پھر ایک عرصہ تک یہ سلسلہ بند رہا۔یہ سلسلہ آپ نے دوبارہ جاری فرمایا۔آپ نے اپنی یادداشت میں تحریر فرمایا ہے کہ اس وقت سنی ائمہ حکومت سے اپنی تنخواہیں لیتے تھے، ایک مرحلہ پر ان ائمہ نے حکومت کو دھمکی دی کہ ہماری تنخواہیں بڑھائی جائیں ورنہ ہم نماز پڑھانا بند کر دیں گے۔چارو ناچار حکومت نے ان کی تنخواہوں میں اضافہ کر کے کام جاری رکھنے کو کہا۔علي جب حضرت خلیفتہ اسیح الثانی کی وفات ہوئی تو اس وقت حضرت چوہدری محمد ظفر اللہ خان صاحب بھی میں موجود تھے۔آپ نے اس نازک موقع پر احباب جماعت مسجد فضل عمر سا مولا میں فجی نصائح فرمائیں۔مئی ۱۹۶۶ ء میں حضرت خلیفتہ اسیح الثالث نے نجی کے لوگوں کے لئے اپنا ایک پیغام ریکارڈ کرایا۔اس پیغام کے آخری الفاظ یہ تھے : ” پس اے میرے عزیز بھائیو! آپ جو دور دراز علاقوں ، جزائر فجی میں رہنے والے ہیں، آپ اپنی ذمہ داریوں کو کبھی نہ بھولیں۔باہم پیار اور محبت سے رہیں اور اس مقصد کو