سلسلہ احمدیہ — Page 706
706 ہمیشہ اپنے سامنے رکھیں جس مقصد کے لئے جماعت احمدیہ کا قیام ہوا ہے۔“ مکرم شیخ عبدالوہاب صاحب فجی میں بطور مبلغ کام کر رہے تھے ، جماعتی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے وہاں پر ایک دوسرا مبلغ بھجوانے کا فیصلہ کیا گیا۔چنانچہ مکرم نور الحق انور صاحب مارچ ۱۹۶۶ء میں بھی پہنچے۔آپ نے بحیثیت امیر و مشنری انچارج تھی میں خدمات کا آغاز کیا۔آپ کو مختلف مواقع پر ریڈیو پر بھی اظہار خیال کے ذریعہ تبلیغ کا موقع ملا۔اس سے قبل سا ئیکلو ٹائل ہو کر جماعت کا ایک ماہانہ پرچہ ”اسلام“ کے نام سے نکلتا تھا۔محترم مولانا نورالحق انور صاحب نے The Muslim Harbinger کے نام سے ایک سہ ماہی رسالہ نکالنا شروع کیا۔اس میں نبی ، انگریزی اور ہندی تینوں زبانوں میں مضامین شائع ہوتے تھے۔با (Ba) کے مقام پر جماعت قائم ہوئے ابھی زیادہ عرصہ نہیں ہوا تھا کہ یہاں پر ایک مکان لے کر دار التبلیغ بنایا گیا۔لیکن اس کے ساتھ ہی مخالفین کا حسد بھی بھڑک اٹھا۔اس مخالفت کا سرغنہ وہاں کا ایک نمایاں شخص ابوبکر کو یا تھا۔اس نے اور دیگر مخالفین نے برملا شہر میں یہ کہنا شروع کیا کہ ہم احمدیوں کے مشن ہاؤس کو جلا کر راکھ کر دیں گے۔احتیاطی تدابیر کے باوجود ایک رات فتنہ پروروں کو موقع مل گیا اور انہوں نے مٹی کا تیل چھڑک کر دار التبلیغ کو آگ لگادی لیکن یہ آگ جلد ہی ختم ہوگئی اور صرف چند لکڑیاں ہی جل پائیں۔جب جماعت کے افراد نقصان کا جائزہ لے رہے تھے تو مکرم مولانا نورالحق صاحب نے آہ بھر کر کہا کہ جس نے اللہ کے دین اسلام کا یہ مرکز جلانے کی کوشش کی ہے، خدا اس کے اپنے گھر کو آگ لگا کر راکھ کر دے۔خدا کا کرنا ایسا ہوا کہ چند ہی روز کے بعد اس فتنہ کے سرغنہ ابوبکر کو یا کے گھر کو آگ لگ گئی اور باوجود کوششوں کے نہ بجھ سکی اور یہ گھر جل کر راکھ ہو گیا۔فنجی میں سب سے پہلے واقف زندگی ہونے کا اعزاز بھی با (Ba) کے ایک احمدی دوست کے حصہ میں آیا۔یہ دوست مکرم محمد حنیف کو یا صاحب تھے۔انہوں نے کچھ عرصہ مکرم مولانا نورالحق انور صاحب سے دینی تعلیم حاصل کی اور پھر نبی میں خدمت دین میں مصروف ہو گئے۔مئی ۱۹۶۸ء میں نجی کی کونسل آف چرچز کی دعوت پر پادری عبد الحق صاحب نبی آئے اور اسلام کے خلاف دل آزار تقاریر کا ایک سلسلہ شروع کر دیا۔غیر احمدی مسلمانوں نے مکرم مولانا نورالحق انور صاحب سے درخواست کی کہ وہ ان پادری صاحب سے مناظرہ کریں۔چنانچہ ایک سکول کی عمارت