سلسلہ احمدیہ — Page 700
700 عیسائی ادارے میں داخلہ لیا اور دوران تعلیم دیگر مذاہب کا مطالعہ جاری رکھا۔اس دوران آپ کو احمد یہ مسلم مشن یو کے کی طرف سے شائع ہونے والا رسالہ دی مسلم ہیرلڈ کا ایک شمارہ ملا۔لنڈن مشن کے مبلغ انچارج مکرم بشیر احمد رفیق صاحب سے خط و کتابت شروع ہوئی۔اور آپ نے بشیر احمد رفیق صاحب کو پولینڈ آنے کی دعوت دی۔حضرت خلیفہ اسیح الثالث کی اجازت سے آپ ۱۹۷۶ء میں پولینڈ گئے اور اس موقع پر طہ زک صاحب نے بیعت فارم پر کیا اور آپ نے اپنی زندگی خدمت دین کے لئے وقف کر دی۔۱۹۷۶ء کے جلسہ سالانہ کے دوسرے روز کے خطاب میں حضرت خلیفہ مسیح الثالث نے فرمایا: اس وقت مسلمانوں میں سب سے زیادہ مظلوم اور اپنے حالات کے ظلم کی وجہ سے بھی اسلام سے دور وہ ممالک ہیں جہاں اشتراکیت یعنی کمیونزم آگیا۔وہاں یہ حال ہے کہ کمیونسٹ یوگوسلاویہ کے سینکڑوں خاندان احمدی ہوگئے ہیں۔سینکڑوں خاندان ! اور یہ حال ہے کہ اس وقت ہنگری کے ایک احمدی یہاں موجود ہیں۔اور وارسا پولینڈ کے امام جو پچھلے سال احمدی ہوئے تھے وہ بھی جلسہ سالانہ پر تشریف لائے ہوئے ہیں۔“ ۱۹۷۷ء میں طہ زک صاحب نے ربوہ کے جلسہ سالانہ میں شرکت کی۔اور آپ کا رابطہ سویڈن میں گوٹن برگ مشن سے رہا۔بعد ازاں زک صاحب نے مبلغ انچارج سویڈن کو پولینڈ کے دورہ کی دعوت دی اور اس موقع پر لیو بن (Lublin) کی کیتھولک یو نیورسٹی میں مبلغ انچارج سویڈن کی تقریر بھی ہوئی۔اور دو مقامی اخبارات نے ان کے انٹرویو بھی شائع کئے۔۱۹۷۸ء کے جلسہ سالانہ کے درمیان والے دن کے خطاب میں حضرت خلیفہ امسح الثالث نے ارشاد فرمایا : وو۔نئی جماعت قائم ہوئی ہے پولینڈ میں۔اور وہاں جماعت احمدیہ کے عقائد اور تعارف پر اس وقت تک پولش زبان میں دو پمفلٹ چھپ چکے ہیں۔۔۔“ یوگوسلاویہ جیسا کہ ہم پہلے ذکر کر چکے ہیں یوگوسلاویہ میں تبلیغ کے لئے مکرم مولوی محمد الدین صاحب گئے