سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 699 of 766

سلسلہ احمدیہ — Page 699

699 مراکش کا سفر بھی اختیار کیا۔اس طرزِ زندگی سے آپ کی صحت پر بہت برا اثر پڑ رہا تھا۔ایک دن اچانک آپ کو احساس ہوا کہ آپ کا وجود کسی غیر مرئی طاقت کے قبضہ میں آ گیا ہے۔اور آپ کے اندر سے یہ دعا نکلی ”اے خدا مجھے پاک کر دے۔اس بات سے آپ کو سکون محسوس ہوا گو کہ آپ اب بھی اپنے آپ کو مصائب میں گھرا ہوا محسوس کرتے تھے۔پھر آپ پین چلے گئے اور وہاں کچھ دن ہسپتال میں اور جیل میں رہ کر آپ کو اپنے وطن بھجوادیا گیا۔اب ان کی عمر ۲۵ سال ہو چکی تھی۔آپ نے ذہنی سکون کی تلاش میں یوگا کی ورزشیں شروع کر دیں۔ایک دن آپ اپنی والدہ کے گھر میں اپنے بستر بیٹھے ہوئے ایک ہندوطرز پر منقش کپڑے کی طرف ٹکٹکی باندھے ہوئے دیکھ رہے تھے کہ انہیں اپنے کندھے کے اوپر سے روشنی نکل کر کتابوں کی الماری کی طرف جاتی ہوئی دکھائی دی۔وہ روشنی ایک کتاب پر آکر رک گئی۔انہوں نے جب اُٹھ کر اس کتاب کو نکالا تو یہ قرآن کریم کا جرمن ترجمہ تھا جو کہ ان کے چانے کسی موقع پر انہیں تحفہ میں دیا تھا اور وہ اسے اب تک فراموش کر چکے تھے۔اس سے ہو بش صاحب کو یقین ہو گیا کہ خدا اس کتاب کی وساطت سے بول رہا ہے۔پھر ان کا جماعت کی مسجد نور سے رابطہ ہوا اور ۱۹۷۰ء میں انہوں نے بیعت کر کے باقاعدہ اسلام قبول کر لیا۔(۱) جرمنی جیسے ملک میں جو باقی مغربی ممالک کی طرح مادیت کا شکار ہو تبلیغ کے لئے یہ بہت ضروری ہے کہ تبلیغ کرنے والا ایک عزم صمیم کے ساتھ یہاں پر اسلام کی تبلیغ کرے۔چنانچہ جب مکرم حیدر علی صاحب ظفر اور مکرم ملک منصور احمد عمر صاحب جرمنی کے لئے روانہ ہوئے تو حضور نے انہیں ارشاد فرمایا که خدمت دین اور تبلیغ کے میدان میں طارق بن زیاد کی طرح کشتیاں جلا کر کام کرنا ہے۔(۱) تحریری روایت مکرم فضل الہی انوری صاحب پولینڈ ہم کتاب کے حصہ دوئم میں ذکر کر چکے ہیں کہ کس طرح پولینڈ میں تبلیغ کا کام شروع ہوا اور پھر اس میں حالات کی وجہ سے ایک طویل عرصہ کا نتطل آگیا۔خلافت ثالثہ کے دوران یہاں لٹریچر کے ذریعہ جماعت کی تبلیغ دوبارہ پہنچی۔یہاں پر ایک معزز عیسائی خاندان کے فرد مکرم طر زک صاحب کو سب سے پہلے احمدیت قبول کرنے کی سعادت نصیب ہوئی۔آپ نے پادری بننے کے لئے ایک