سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 701 of 766

سلسلہ احمدیہ — Page 701

701 تھے۔لیکن پھر دوسری جنگ عظیم اور یوگوسلاویہ کی حکومت کی پالیسیوں کے باعث یہاں پر تبلیغ کا کام جاری نہیں رہ سکا اور نہ ہی احمدیوں کی تربیت اور ان سے رابطے کا کام جاری رہ سکا۔ایک لمبے عرصہ کے تعطل کے بعد اگست ۱۹۷۰ء میں مکرم چوہدری مشتاق احمد باجوہ صاحب مبلغ انچارج سوئٹزر لینڈ نے ایک ہفتہ کے لئے یوگوسلاویہ کے جنوبی حصہ کا دورہ کیا جہاں پر مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد آباد ہے۔دوران قیام آپ ان کے بڑے بڑے علماء سے ملے اور انہیں جماعت احمدیہ سے متعارف کرایا اور ان کے سوالات کے جوابات دیئے۔وہاں قیام کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ بعض عرب ممالک سے جماعت کے خلاف لٹریچر یوگوسلاویہ بھجوایا گیا تھا۔آپ نے اس دورہ میں مختلف علماء سے مل کر اس لٹریچر میں لگائے گئے الزامات کی حقیقت سے ان علماء کو آگاہ کیا۔دوسری بار آپ جولائی ۱۹۸۳ء میں یوگوسلاویہ گئے۔وہاں آپ نے ایک خاندان سے ملاقات کی جنہوں نے سوئٹزر لینڈ میں احمدیت کو قبول کیا تھا۔آپ کی تبلیغ سے جن افراد نے احمدیت قبول کی تھی ان میں سے Mr۔Daut Dauti قابل ذکر تھے۔انہوں نے ۱۹۸۳ء میں سوئٹزر لینڈ میں احمدیت قبول کی تھی اور پھر اپنے گاؤں Gilan میں آکر تبلیغ کی۔اور آپ کی کاوشوں سے یہاں پر۔تین گھرانوں کے ہیں افراد نے احمدیت قبول کی۔اور اس مقام پر باقاعدہ جماعت قائم ہوگئی۔آئیوری کوسٹ آئیوری کوسٹ میں جماعت کے قیام کے بعد اس بات کی ضرورت تھی کہ یہاں پر جماعت کے مشن کے لئے زمین خریدی جائے۔جماعت کے مبلغ مکرم قریشی محمد افضل صاحب نے اس ضمن میں کوششوں کا آغاز کیا۔کئی مقامات کا جائزہ لینے کے بعد آجائے(Adjame) میں ایک پلاٹ پسند کیا گیا۔اس پر ایک مکان پہلے سے تعمیر شدہ تھا۔اس پر ایک چھوٹی سی مسجد تعمیر کر لی گئی۔اکتوبر ۱۹۶۸ء میں تعلیم الاسلام احمد یہ فرینچ عریبک سکول کا آغاز کیا گیا۔آئیوری کوسٹ سے ہمسایہ ممالک میں بھی تبلیغ کے کام کا آغاز کیا گیا۔اور اپر ولٹا ( موجودہ برکینا فاسو) اور مالی میں تبلیغ کا کام کیا گیا۔۱۹۷۰ء میں حضرت خلیفۃ اسیح الثالث کے دورہ آئیوری کوسٹ کا ذکر پہلے آچکا ہے۔۱۹۷۲ء میں ماریشس