سلسلہ احمدیہ — Page 691
691 سری لنکا میں بطور مبلغ خدمات کی توفیق پائی۔مکرم مولوی محمد عمر صاحب نے ۱۹۷۸ء میں تین ماہ کے لئے یہاں پر خدمات کی توفیق پائی۔ان کی آمد کے بعد جماعت احمد یہ سری لنکا کا جلسہ سالا نہ بھی منعقد ہوا۔جب اس کی خبر اخبار میں چھپی تو فوراً مخالفین میں اشتعال پھیلنا شروع ہو گیا۔سب ایک بار پھر سر جوڑ کے بیٹھے کہ کس طرح احمدیت کو ختم کیا جائے۔چنانچہ ایک جلسہ کا اہتمام کیا گیا۔یہ جلسہ نیگومبو میں جماعت کی مسجد کے سامنے منعقد کیا گیا۔پروگرام یہ تھا کہ جلسہ کے بعد ہجوم جماعت کی مسجد پر حملہ کر کے اس پر قبضہ کر لے گا۔جلسہ میں سری لنکا کے ایک مسلمان وزیر صاحب، رابطہ عالم اسلامی کے نمائندے اور سری لنکا سے باہر سے آئے ہوئے مخالفین بھی شامل تھے۔احمدیوں کے خلاف شدید اشتعال پھیلایا گیا تھا۔احمدیوں کی جانوں کو شدید خطرہ تھا۔چنانچہ وہ اپنے گھروں سے ایک محفوظ مقام پر منتقل ہو گئے تھے۔خدا کا کرنا ایسا ہوا کہ جب جلسہ شروع ہوا تو شدید بارش شروع ہوگئی۔اور جلسہ درہم برہم ہو گیا۔اسی رات کو احمدیوں کے بعض مکانوں کو آگ لگانے کی کوشش کی گئی۔لیکن ہمسایوں اور پولیس کی مداخلت کی وجہ سے یہ منصوبہ بھی کامیاب نہ ہو سکا۔اسی طرح ایک روز رات کو ایک بجے غیر احمدیوں کی بڑی مسجد میں اذان دی گئی اور ایک ہجوم جمع ہو کر احمدیوں کی مسجد کی طرف بڑھنے لگا۔احمدیوں کی مسجد یہاں سے قریب ہی ہے۔لیکن ابھی مفسدین کا یہ گروہ جماعت کی مسجد کے قریب نہیں پہنچ پایا تھا کہ پولیس کا ایک دستہ وہاں سے گزرا اور انہوں نے صورت حال کو بھانپ کر کہا کہ اگر یہ گروہ منتشر نہ ہوا تو وہ فائر کھول دیں گے۔یہ سن کر اس ہجوم کا جذ بہ جہا د سر د ہوا اور وہ منتشر ہو گئے۔مکرم محمد سعید انصاری صاحب نے ۱۹۸۰ء میں چھ ماہ کے لئے سری لنکا میں خدمات سرانجام دیں۔اس وقت یہاں پر کولمبو اور نیمبو کے علاوہ پول نروا، پسیالا اور پتکم میں جماعتیں قائم تھیں۔یہاں پر ایک مختصر جماعت قائم تھی۔سری لنکا میں اس وقت احمدیوں کی تعداد دوسو اور تین سو کے درمیان تھی۔۱۹۷۸ء کے جلسہ سالانہ میں حضرت خلیفہ اسیح الثالث نے فرمایا۔"سری لنکا میں ۱۹۲۰ ء میں اس وقت کے حالات اور جماعت کی تعداد کے لحاظ سے ایک چھوٹی سی مسجد تعمیر ہوئی تھی۔اب اسکی جگہ جماعت بڑی ہوگئی حالات بہتر ہو گئے۔تین منزلہ عمارت تعمیر کی گئی ہے۔اور اسمیں ایک منزل غالباً پوری ایک مسجد کی ہوگی۔اور اس کے