سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 690 of 766

سلسلہ احمدیہ — Page 690

690 مذہب کی طرف کم توجہ ہوتی ہے اور یہ چیز بھی تبلیغ کی راہ میں رکاوٹ تھی۔یہاں پرمشن کی طرف سے چینی اور انگریزی میں لٹریچر تقسیم کیا گیا۔اس میں اسلامی اصول کی فلاسفی کا چینی ترجمہ بھی شامل تھا۔اور اس کے علاوہ عثمان چینی صاحب نے احمدیت کے تعارف پر چینی زبان میں کتاب لکھی جو پانچ ہزار کی تعداد میں تقسیم کی گئی۔مولوی محمد صدیق صاحب امرتسری نے ملائی زبان میں تین کتابیں لکھی تھیں جو سنگا پور ملائیشیا اور انڈو نیشیا میں تقسیم کی گئیں۔یہاں پر مسلمانوں کی بہبود کے لئے ایک تنظیم قائم تھی اور اس کے صدر مکرم ابراہیم ما صاحب تھے۔وہ جماعت احمدیہ کی بر ملا تعریف کرتے تھے اور دوسروں کو بھی تلقین کرتے تھے کہ وہ تبلیغی مساعی میں جماعت احمدیہ سے تعاون کریں تحقیق کے بعد یہ صاحب وفات مسیح کے قائل بھی ہو گئے تھے اور اپنے مضامین میں اس کا بر ملا اظہار بھی کر دیا تھا۔(۱) (1) الفضل ۲۶ ستمبر ۱۹۷۰ ء ص ۵ سری لنکا ایک عرصہ سے سری لنکا میں مرکزی نمائندہ موجود ہیں تھا۔جس کی وجہ سے جماعت کے کئی افراد میں کچھ کمزوریوں کے آثار پیدا ہو گئے تھے۔چنانچہ حضرت خلیفتہ اسیح الثالث کے ارشاد پر وکیل اعلیٰ و وکیل التبشیر تحریک جدید مکرم صاحبزادہ مرزا مبارک احمد صاحب نے ۱۹۷۳ء میں یہاں کا دورہ کیا۔مکرم مسعود احمد جہلمی صاحب آپ کے ہمراہ تھے۔اس دورہ کے ساتھ جماعت احمد یہ سری لنکا کی از سرنو شیرازہ بندی ہوئی۔سری لنکا میں دو بڑی جماعتیں تھیں ایک تو دار الحکومت کولمبو کی جماعت تھی اور دوسری کولمبو کے ایئر پورٹ کے قریب واقعہ نگومبو کی جماعت تھی۔اس دورہ کے دوران ان جماعتوں میں ذیلی تنظیموں کے انتخابات کرائے گئے۔(۱) مکرم عبد القادر صاحب نے ۱۹۷۳ ء تک جماعت احمد یہ سری لنکا کے پریذیڈنٹ کی حیثیت سے خدمات سرانجام دیں۔ان کے بعد مکرم ایم حسن صاحب نے یہ فرائض ادا کرنے شروع کئے۔۱۹۷۴ء میں نامبولا وا پاسیالا Nambulawa Pasyala میں ایک چھوٹی سی مسجد تعمیر کی گئی۔اس کی زمین ایک احمدی نے عطیہ کے طور پر دی تھی۔مکرم قریشی عبدالرحمن صاحب نے دوسری مرتبہ اگست ۱۹۷۶ ء سے لے کر مارچ ۱۹۷۷ ء تک