سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 688 of 766

سلسلہ احمدیہ — Page 688

688 بڑے ہی فدائی۔بڑے ہی قربانی دینے والے اور ایثار پیشہ اپنے آپ کو تکلیف میں ڈال کر احمدیت اور اسلام کی خدمت کرنے والے نوجوان ہیں۔اللہ تعالیٰ ہمیشہ ان کے ساتھ ہو۔“ جماعت احمد یہ گلاسکو کا با قاعدہ آغاز ۱۹۶۳ ء یا ۱۹۶۴ء میں ہوا جب مکرم منور احمد صاحب جماعت کے صدر مقرر کئے گئے۔۱۹۶۴ء میں مکرم ایوب احمد خان صاحب یہاں کے صدر جماعت مقرر ہوئے۔اور انہوں نے اپنا ایک فلیٹ جماعتی ضروریات کے لئے استعمال کرنے کے لئے دیا۔اسی فلیٹ میں احباب جماعت جمعہ اور عیدین پڑھتے رہے اور یہیں پر اجلاسات منعقد ہوتے رہے۔مکرم بشیر احمد آرچرڈ صاحب ۱۹۶۶ء میں سکاٹ لینڈ میں مبلغ مقرر ہوئے تو آپ کا قیام بھی اسی فلیٹ میں تھا۔مکرم بشیر احمد آرچر ڈ صاحب نے ۱۹۸۳ ء تک یہاں پر بطور مبلغ خدمات سرنجام دیں۔۱۹۶۷ء کے دورہ کے دوران حضرت خلیفہ اسیح الثالث اسی فلیٹ میں تشریف لائے اور اور اس دورہ کے دوران جماعت کو اپنا فلیٹ خریدنے کا ارشاد بھی فرمایا۔اس کے چند سال کے بعد حضرت چوہدری ظفر اللہ خان ساحب نے ایک فلیٹ خرید کر جماعت کو پیش کیا اور پھر یہ فلیٹ جماعتی مرکز کے طور پر استعمال ہونے لگا۔سپین سپین میں خلافت ثالثہ کے دوران بھی مکرم کرم الہی ظفر صاحب خدمات سرانجام دے رہے تھے۔۱۹۶۹ء کے جلسہ کے خطاب میں آپ کی خدمات کے متعلق حضرت خلیفہ اسیح الثالث نے ارشاد فرمایا:۔ا بھی مجھے چند ہفتے ہوئے سپین کے مبلغ کا خط آیا۔وہاں ہمارے مبلغ کی یہ حالت ہے کہ جماعت کی طرف سے اسے کوئی گزارہ نہیں ملتا۔اسکے ساتھ معاہدہ ہی یہی ہے۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے انتہائی قربانی کرنے والے کچھ نوجوان نکالے تھے۔اور ان سے کہا تھا کہ ہم تمہیں ایک دھیلا نہیں دیں گے۔جاؤ، کماؤ اور تبلیغ کرو۔وہ اس قسم کے مبلغین میں سے ہیں۔شخص دن کے وقت ایک عام بازار کی نکڑ پر کھڑا ہو کر چھابڑی میں عطر بیچتا ہے۔ایک دنیا دار کی نگاہ میں ایک چھابڑی فروش سے زیادہ اس کی کوئی حیثیت