سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 687 of 766

سلسلہ احمدیہ — Page 687

687 کی طرف سے مناسب رنگ میں نمائندگی نہ ہوئی تو بہت خفت ہو گی۔چنانچہ اس کا نفرنس میں مسلمانوں کی نمائندگی جماعت احمدیہ کے مبلغ کو سونپی گئی۔اللہ تعالیٰ نے ایسی راہنمائی فرمائی کہ انہوں نے دورانِ گفتگو بہائی حضرات سے دریافت کیا کہ آپ میں سے کسی نے خود اپنے مذہب کے بانی کی کتاب القدس پڑھی یا دیکھی ہے تو ان میں سے صرف ایک نے کہا کہ میں نے اس کا ایک غیر مستند ترجمہ پڑھا ہے۔جب دریافت کیا گیا کہ کیا اس کا کوئی مستند ترجمہ بھی ہے تو وہ بولے کہ ابھی تک تو نہیں ہوا۔جب پوچھا کہ کیا آپ کے پاس القدس کتاب موجود بھی ہے تو بہائی حضرات نے اس کا جواب بھی نفی میں دیا۔اس پر مکرم عبد الحکیم الکل صاحب نے انہیں مولوی ابو العطاء صاحب کا کیا ہوا ترجمہ دکھا کر کہا کہ کیا وجہ ہے کہ اتنی سی کتاب کا ترجمہ اتنے سالوں میں نہیں ہوسکا۔آپ کو چاہئے کہ اپنے منتظمین سے اس کتاب کا مطالبہ کریں لیکن میں یہ بتا دیتا ہوں کہ آپ کو یہ کتاب نہیں ملے گی کیونکہ اس کے پڑھنے ہی سے آپ کو اس مذہب کے بانی کے صحیح خیالات کا پتہ چلے گا۔اس گفتگو کا حاضرین پر ایک خاص اثر ہوا۔واپسی پر ترک امام صاحب نے اور ان کے ساتھیوں نے بڑے جوش سے انہیں کہا کہ آپ نے ہماری عزت رکھ لی ہے۔(۲) ہالینڈ میں باقاعدگی کے ساتھ بچوں کی کلاس کا اہتمام کیا جاتا اور اس کلاس میں بعض غیر از جماعت بچے بھی شامل ہوتے۔لٹریچر کے لئے مختلف ممالک سے خطوط موصول ہوتے جنہیں حسب خواہش لٹریچر بھجوایا جاتا۔یہاں پر آئے ہوئے ترک مراکشی اور ایرانی مسلمان جماعت کے مشن سے رابطہ کرتے۔ان میں سے بعض نے بیعت بھی کی۔(۳) (1) الفضل ۲۹ اکتوبر ۱۹۷۰ ء ص ۴٫۳ (۲) الفضل ۳۰ اکتوبر ۱۹۷۰ ص ۳و۴ (۳) الفضل ۳۱ اکتوبر ۱۹۷۰ ص ۳ و ۴ سکاٹ لینڈ حضرت خلیق اسبح الالف نے نے ۲ جنوری ۱۹۶۷ء کی جلسہ سالانہ کی تقریر میں ارشادفرمایا۔سکاٹ لینڈ میں نیا مشن کھولا گیا ہے جہاں بشیر احمد آرچرڈ صاحب کام کر رہے ہیں۔یہ بڑے مخلص انگریز واقف زندگی ہیں کہ یہاں کے لوگوں کو بھی ان پر رشک آتا ہے۔