سلسلہ احمدیہ — Page 684
684 ملائیشیا میں سبا میں جماعت کا مشن کام کر رہا تھا اور مولوی بشارت احمد امروہی صاحب اس کے انچارج کے طور پر کام کر رہے تھے۔یہاں پر انفرادی ملاقاتوں اور روابط کے ذریعہ تبلیغ کا کام جاری تھا۔اور ملک کی لائبریریوں کو با قاعدگی سے ریویو آف ریلیجنز بھجوایا جاتا۔سوڈان سوڈان میں باقاعدہ مشن قائم کرنے کی اجازت تو نہیں ہے لیکن سوڈان میں احمدیت کا پیغام خلافت ثانیہ میں ہی پہنچ گیا تھا۔اس وقت سوڈان بھی بلاد غربیہ کے مبلغ کے ماتحت تھا۔جب مولانا جلال الدین شمس صاحب مصر اور فلسطین کے مبلغ انچارج تھے تو ایک سوڈانی عالم محد عثمان صاحب مصر تشریف لائے اور شمس صاحب سے تبادلہ خیالات کے بعد انہوں نے احمدیت قبول کر لی۔واپس جا کر انہوں نے وہاں پر احمدیت کی تبلیغ بھی کی۔متحدہ ہندوستان سے بھی کچھ لوگ بسلسلہ روزگار سوڈان پہنچے اور وہ بھی زبانی اور لٹریچر کے ذریعہ تبلیغ کرتے رہے۔سوڈان میں مشن کھولنے اور باہر سے وہاں پر مبلغ بھجوانے کی راہ میں تو بہت سی رکاوٹیں حائل تھیں لیکن ایک سوڈانی ابراہیم عباس فضل اللہ حصول تعلیم کے لئے ربوہ تشریف لائے۔آپ ۱۹۴۱ء میں خود احمدی ہوئے تھے۔ربوہ میں تین سالہ کورس مکمل کر کے ۱۹۵۳ء میں واپس سوڈان تشریف لے گئے اور حسب توفیق تبلیغ کا کام شروع کیا لیکن عمر نے وفا نہیں کی اور جلد ہی آپ کی وفات ہوگئی۔اسی طرح دسمبر ۱۹۵۰ء میں سوڈان سے ایک اور طالب علم رضوان عبد اللہ دینی تعلیم کے حصول کے لئے ربوہ آئے لیکن دریائے چناب میں نہاتے ہوئے ڈوب کر آپ کا انتقال ہو گیا۔اور آپ کو حضرت خلیفہ اسیح الثانی رضی اللہ عنہ کے خصوصی ارشاد پر بہشتی مقبرہ ربوہ میں دفن کیا گیا۔بیسویں صدی کے پہلے نصف میں جنوبی سوڈان میں عیسائیت کا پرچار پورے زور وشور سے جاری تھا۔اور انگریزوں کی عملداری میں اس حصہ میں مسلمان علماء کا داخلہ بھی بند تھا۔جب مولانا نذیر احمد مبشر صاحب مبلغ سیرالیون سوڈان گئے تو وہاں پر ایسے نمایاں مسلمانوں نے جو افریقہ کے دوسرے ممالک میں عیسائیت کے مقابلہ میں جماعت احمدیہ کی خدمات دیکھ چکے تھے انہیں ملے اور اس بات کا اظہار کیا کہ حضرت خلیفہ امسیح الثانی کی خدمت میں یہ پیغام بھجوایا جائے کہ حضور سوڈان کی طرف بھی