سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 683 of 766

سلسلہ احمدیہ — Page 683

683 ۱۹۸۲ء میں جماعت احمد یہ انڈونیشیا کے ایک مخلص کارکن اور قادیان آکر دینی تعلیم حاصل کرنے والے ابتدائی انڈونیشین مکرم عبد الواحد صاحب انتقال کر گئے۔آپ کے انتقال سے قبل آپ کے صاحبزادے مکرم عبد الباسط صاحب مبلغ بن کر اپنی خدمات کا آغاز کر چکے تھے۔(۵) اس دور میں انڈونیشیا میں ۱۵۰ جماعتیں قائم تھیں اور ۱۲۷ مساجد موجود تھیں۔اور اس ملک میں سات مرکزی مبلغ ، آٹھ مقامی مبلغین اور بارہ معلمین اور ۷۶ اسا تذہ کام کر رہے تھے۔اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت احمدیہ انڈونیشیا نے جاپان میں ایک مرکز کا خرچ بھی اُٹھایا تھا۔اسی طرح بانڈ ونگ شہر میں ایک مقامی احمدی عورت نے ایک بڑی مسجد تعمیر کروائی تھی۔اور مانسلور نامی گاؤں میں جلسہ سالانہ کے لئے ایک بڑا ہال تعمیر کیا گیا تھا۔خلافت ثالثہ کے دوران جو مختلف مبلغین انڈونیشیا تشریف لے گئے انہیں تحریر کے ذریعہ بھی اس جہاد میں حصہ لینے کی توفیق ملتی رہی۔مکرم محمود احمد چیمہ صاحب کو خلافت ثالثہ کے دوران ۱۹۶۹ء کے بعد انڈونیشیا میں کام کرنے کی توفیق ملی۔آپ نے چھوٹے کتا بچوں اور کتب کی صورت میں لٹر پر تحریر کیا۔ان کی تعداد ۱۳ تھی۔ان میں تین مسائل وفات مسیح، ختم نبوت ، صداقت حضرت مسیح موعود علیہ السلام ،امام مہدی کے آنے کی خوشخبری ، حضرت مرزا غلام احمد امام مہدی علیہ السلام کے معجزات، سیرت امام مہدی علیہ السلام ، سوانح حیات حضرت خلیفۃ ابیح الا ول رضی اللہ تعالی عنہ، سوانح حیات حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ ، سوانح حیات حضرت خلیفہ المسیح الثالث رحمہ اللہ شامل ہیں۔(۷) (۱)الفضل ۱۸اکتوبر ۱۹۷۱ء ص ۴۱۳ (۲) تحریک جدید جنوری ۱۹۶۹ ء ص ۸ (۳) الفضل ۸ اگست ۱۹۷۹ ص ۶ (۴) الفضل ۱۴ جون ۱۹۷۹ء ص ۳ (۵) افضل ۱۸ را پریل ۱۹۸۲ اس ۵ (۶) تقریر جلسہ سالانہ حضرت خلیفہ اسیح الثالث کے ۲ دسمبر ۱۹۶۹ء (۷) تحریری روایت مکرم محمود احمد چیمہ صاحب ملائیشیا