سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 679 of 766

سلسلہ احمدیہ — Page 679

679 جائیداد کا وارث قرار پاتا ہے اور بیوی بیٹیوں کو محروم رہنا پڑتا ہے۔غانا کے احمدی احباب اپنی وصیت میں اسلامی تعلیمات کو محوظ نظر رکھتے تھے اور اس پر ان کی وفات کے بعد ان کے کئی غیر از جماعت رشتہ دار ہنگامہ کھڑا کر دیتے تھے۔ایسی ایک صورت میں غانا کی عدالت نے امیر جماعت احمدیہ کو عدالت میں طلب کیا تا کہ وہ عدالت کو اسلامی نظام وصیت کے خدوخال سے مطلع کریں۔چنانچہ مکرم بشارت احمد صاحب بشیر نے پہلے عدالت کو تحریری طور پر اسلامی نظام وصیت کے متعلق ایک تحریر بھجوائی جسے متعلقہ وکلاء میں تقسیم کیا گیا اور پھر آپ نے عدالت میں پیش ہو کر اس موضوع پر خطاب کیا اس کے بعد سوال و جواب کا سلسلہ شروع ہوا۔جولائی ۱۹۷۱ ء تک حضرت خلیفتہ امیج الثالث کی تحریک کے مطابق غانا میں چار ہسپتال کھل چکے تھے لیکن ان کے قیام میں بعض اوقات با اثر عیسائی احباب کی طرف سے رکاوٹ کا سامنا بھی کرنا پڑتا تھا۔ان میں کام کرنے والے ڈاکٹر صاحبان نہ صرف کہ علاج سے اہلِ غانا کی خدمت کر رہے تھے بلکہ اپنے مخصوص فرائض کے علاوہ تبلیغی خدمات میں بھی بھر پور حصہ لیتے تھے۔مثلاً ڈاکٹر غلام احمد صاحب اور ڈاکٹر سید غلام مجتبی صاحب اپنے علاقوں میں سیرت النبی ﷺ کے جلسے منعقد کراتے۔اس دور میں غانا میں نصرت جہاں سکیم کے تحت تبلیغ کی مہم جاری تھی۔۱۹۷۱ء میں چند ماہ کے دوران ۶ انٹی جماعتوں کا قیام عمل میں آیا۔نو مبایعین کی تربیت کے لئے چار نئے مراکز کھولے گئے۔اپر رینج میں سوالا (Swala) میں اچھی خاصی جماعت بن گئی۔مسجد کی زمین کے لئے قطعہ زمین حاصل کیا گیا تو پادری حضرات مخالفت پر اتر آئے مگر چیف نے مطلوبہ قطعہ جماعت کو دینے کا فیصلہ کیا۔(۱) جب بھی کسی ملک میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت کو ترقی مل رہی ہو تو اس کے ساتھ مساجد کی ضرورت بھی خود بخود بڑھ جاتی ہے۔مساجد تبلیغ اور تربیت میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔چنانچہ جوں جوں غانا میں جماعت کا قدم ترقی کی طرف بڑھ رہا تھا یہاں کی جماعت بڑی ہمت سے مساجد کی تعمیر کی طرف توجہ دے رہی تھی۔چنانچہ صرف ۱۹۷۸ء کے سال کے دوران غانا میں ۱۵ مساجد تعمیر کی گئیں۔ان میں سے تین بڑی مساجد تھیں۔حضرت خلیفۃ المسیح الثالث نے اس سال کے جلسہ سالانہ میں اس پر اظہار خوشنودی فرمایا اور فرمایا کہ ان میں سے کسی جماعت نے مسجد کی تعمیر کے لئے غانا کے مرکز سے بھی کوئی مدد نہیں لی۔