سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 678 of 766

سلسلہ احمدیہ — Page 678

678 کالج کے پرنسپل کے فرائض سنبھالے۔۱۹۶۶ ء کے سال میں ہی غانا میں جماعت کے پانچ پرائمری سکولوں نے کام شروع کیا۔اس دور میں غانا کی جماعت کا ماہانہ جریدہ دی گائیڈنس با قاعدگی سے شائع ہورہا تھا۔پھر ۱۹۶۷ء میں غانا میں جماعت کے تین نئے مڈل سکولوں نے کام شروع کیا۔اس اضافہ کے ساتھ غانا میں جماعت کے پرائمری اور مڈل سکولوں کی تعدا د انتیس ہوگئی۔۱۹۷۰ء میں مکرم بشارت احمد بشیر صاحب نے مکرم عطاء اللہ کلیم صاحب سے غانا کے امیر و مشنری انچارج کا چارج لیا اور مکرم عطاء اللہ کلیم صاحب مرکز تشریف لے آئے۔مکرم مولونا عطاء اللہ کلیم صاحب کو ۱۹۵۱ء سے لے کر ۱۹۷۵ ء تک مختلف اوقات میں تقریباً 19 سال تک غانا میں خدمات سرانجام دینے کا موقع ملا۔جب آپ آخری مرتبہ غانا سے واپس آئے تو مکرم عبدالوہاب آدم صاحب نے آپ سے غانا کے امیر ومشنری انچارج کے فرائض سنبھالے۔۱۹۷۰ء کی دہائی میں جماعت احمد یہ غانا تبلیغ کے لئے کیا طریقہ کار اپنا ہی تھی ، اس کے متعلق مکرم عبدالشکور صاحب جو اس وقت غانا میں مبلغ تھے بیان کرتے ہیں کہ غا نا میں ہر فرقہ اور مذہب کو تبلیغ کی اجازت تھی اور سلسلہ کے مبلغین تبلیغ کی سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہے تھے۔غانا میں تبلیغی جلسہ بہت کامیاب رہتے تھے اور ان کے ساتھ سوال و جواب کی مجالس کافی لمبی چلتی تھیں۔غانا میں بہت سے مقامات پر مستحکم جماعتیں قائم تھیں لیکن بہت سے علاقے ایسے تھے کہ جہاں پر احمدی نہ ہونے کے برابر تھے۔مکرم بشارت احمد بشیر صاحب نے ۱۹۷۱ء میں ایسے علاقوں میں خصوصی طور پر شمالی غانا میں تبلیغی وفود بھجوائے اور ایسا پروگرام مرتب کیا کہ یہ وفود بڑے قصبوں میں مختصر قیام کی بجائے پندرہ دن یا مہینہ بھر قیام کرتے۔اللہ تعالیٰ نے اس منصوبہ میں برکت ڈالی اور ایسے بڑے قصبوں میں دس کے قریب نئی جماعتیں قائم ہوئیں۔۱۹۷۰ء کی دہائی میں دوسرے مغربی افریقہ کے ممالک کی طرف نصرت جہاں کی سیکیم پر زور و شور سے کام ہورہا تھا لیکن حضرت خلیفتہ امیج الثالث کی ہدایت تھی کہ سکولوں اور ہسپتالوں پر توجہ کے باعث تبلیغ میں سستی پیدا نہ ہو۔(۴) شاہ اشانٹی کے انتقال کے بعد جب نئے شاہ اشانٹی کی تخت نشینی ہوئی تو اس موقع پر جماعت احمدیہ کے وفد نے ان کی خدمت میں قرآن کریم کا تحفہ پیش کیا۔غانا کے مروجہ قوانین کے مطابق بھتیجا