سلسلہ احمدیہ — Page 556
556 پڑا تو یہ دریغ نہیں کریں گے (۴) یہ نہ صرف ایک مامور من اللہ کی شان میں گستاخی تھی بلکہ سیاست کے اعتبار سے بھی تیسرے درجہ کی بیان بازی تھی۔بہر حال اپنے بھیجے ہوئے مامورین کی شان میں گستاخی کا بدلہ خود خدا تعالیٰ لیتا ہے۔بھٹو صاحب نے تو اپنی دانست میں احمدیوں کے خلاف آئین میں ترمیم کر کے مذہبی حلقوں کو مکمل طور پر لا جواب کر دیا تھا لیکن اب تمام مخالف جماعتیں قومی اتحاد کے نام سے اتحاد بنا کر ان کے خلاف صف آراء تھیں اور ان کا نعرہ تھا کہ وہ پاکستان میں نظام مصطفے نافذ کریں گے۔اور مولویوں کا گروہ بھٹو صاحب کے خلاف سب سے زیادہ سرگرم تھا۔مقررہ تاریخوں کو انتخابات ہوئے۔نتائج کے مطابق پیپلز پارٹی نے ۱۳۶ اور مخالف قومی اتحاد نے صرف ۳۶ سیٹوں پر کامیابی حاصل کی۔اپوزیشن نے انتخابات میں وسیع پیمانے پر دھاندلیوں کا الزام لگایا اور نتائج کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا۔اور اس کے ساتھ صوبائی انتخابات کے بائیکاٹ کا اعلان کر دیا گیا۔جو کہ کامیاب رہا اور بہت کم لوگ صوبائی انتخابات میں ووٹ ڈالنے آئے۔اپوزیشن وزیر اعظم کے مستعفی ہونے اور نئے انتخابات کا مطالبہ کر رہی تھی۔یہ ہم تیز تر ہوتی گئی۔بھٹو صاحب کے اکثر پرانے رفقاء انہیں چھوڑ چکے تھے یا پھر بھٹو صاحب نے خود ہی انہیں اپنے غضب کا نشانہ بنا کر اپنے سے علیحدہ کر دیا تھا۔باوجود ایک طاقت ور اور قد آور شخصیت ہونے کے اس وقت وہ تنہا اور بے بس نظر آرہے تھے۔ان کے پرانے رفیق اور سابق وفاقی وزیررفیع رضا صاحب لکھتے ہیں: ” پی پی پی کے ابتدائی گروہ میں سے اب صرف ممتاز بھٹو ذوالفقار علی بھٹو کے ساتھ تھے اور اس کی وجوہات بھی خاندانی تھیں۔میں اور ممتاز اس بات پر تبصرہ کیا کرتے تھے کہ کس طرح اس وقت بھٹو صاحب نے اپنی ایجنسیوں کی بجائے ہمارے سے رجوع کیا ہے اگر چہ میں اس وقت وزیر نہیں تھا۔گو بد قسمتی سے اس وقت تک بہت کچھ بگڑ چکا تھا۔وہ بالکل بے بس نظر آتے تھے۔ان کے پاس کہنے کو کوئی نئی بات نہیں تھی۔ان کے پاس کرنے کو کچھ نیا نہ تھا۔وہ پی پی پی کے پرانے دوستوں اور ساتھیوں کو کھو چکے تھے۔پبلک اور پارٹی کا جو کچھ بھی بچا تھا ان کی مددکو نہیں آ رہا تھا۔اور اب انہیں احساس ہو گیا ہو گا کہ وہ طاقت پر