سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 555 of 766

سلسلہ احمدیہ — Page 555

555 کی طرف بھی لے جاتا ہے۔چنانچہ اب جو انتخابات کا اعلان ہوا تو بھٹو صاحب نے نجومیوں اور دست شناسوں کی طرف رجوع کیا۔ان کے ایک صوبائی وزیر انتخابات کی تاریخ کے سعد ہونے کی سند لینے کے لئے سری لنکا دوڑے دوڑے گئے تاکہ وہاں کے نجومیوں کی رائے لی جاسکے۔اور جب ان نجومیوں نے اس کے حق میں رائے دی تو انتخابات کا اعلان کیا گیا۔پھر بھٹو صاحب نے اپنے ہاتھ کی لکیروں کا عکس ایک دست شناس کو بھجوایا۔اس وقت اپوزیشن بٹی ہوئی تھی اور اس میں کوئی جان نظر نہیں آرہی تھی۔لیکن جلد ہی اپوزیشن کی نو جماعتوں نے اتحاد کا اعلان کیا اور اقتدار میں آکر نظام مصطفے نافذ کرنے کا اعلان کیا۔اور اس کے ساتھ ہی بھٹو صاحب کے خلاف ایک منظم اور جاندار انتخابی مہم شروع ہو گئی۔دوسری طرف بہت سے لیڈروں نے جو پہلے کسی زمانے میں بھٹو صاحب کے سخت مخالف رہ چکے تھے پیپلز پارٹی کے ٹکٹ کے حصول کے لئے بزعم خود اپنے ہزاروں ساتھیوں سمیت پیپلز پارٹی میں شمولیت کے اعلانات کرنا شروع کر دیئے۔یہ علیحدہ بات ہے کہ بھٹو صاحب کے وزیر رفیع رضا صاحب کے مطابق اگر ان دعووں کی تعداد جمع کر دی جاتی تو پاکستان کی آبادی سے دوگنی نکلتی۔لیکن بھٹو صاحب اس صورت حال میں بہت خوش تھے۔جب انتخابات کے لئے پارٹی کے منشور کی تیاری کا مرحلہ آیا تو رفیع رضا صاحب بیان کرتے ہیں کہ وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو صاحب نے خود اصرار کیا کہ حکومت کے کارنامے بیان کرتے ہوئے منشور میں یہ حصہ ضرور شامل کیا جائے نوے سالہ قدیم قادیانی مسئلہ کو خوش اسلوبی سے طے کر دیا۔دستور میں واضح طور پر بیان کیا گیا ہے کہ جو شخص حضرت محمد مصطقے م و قطعی اور غیر مشروط طور پر آخری نبی نہیں مانتا وہ مسلمان نہیں۔“ (۲۶۵) بھٹو صاحب نے بھی ایک بھر پور انتخابی مہم شروع کی۔پہلے جو ہوا تھا وہ تو ہوا تھا لیکن اس مہم کے دوران بھی بھٹو صاحب نے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے متعلق گستاخانہ کلمات استعمال کئے۔انہوں نے قومی اتحاد کے لیڈروں کے متعلق یہ بیان دیا: وو۔۔۔۔۔اگر الیکشن جیتنے کے لئے ان لوگوں کو مرزا غلام احمد قادیانی کی قبر پر بھی جانا