سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 557 of 766

سلسلہ احمدیہ — Page 557

557 بہت زیادہ انحصار کرتے رہے تھے۔حقیقت یہ ہے کہ ممتاز نے کچھ مہینے پہلے یہ پیشگوئی کی تھی کہ ذوالفقار علی بھٹو جس سمت میں جارہے ہیں اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ فوج ان کا تختہ الٹ دے گی۔“ اس وقت پیپلز پارٹی کے سیکریٹری جنرل مبشر حسن صاحب تھے۔وہ پہلے بھی تحریری طور پر بھٹو صاحب کو متنبہ کر چکے تھے کہ اس رویہ کا انجام اچھا نہ ہو گا۔وہ اس صورت حال میں بالکل دل برداشتہ ہو چکے تھے۔انہوں نے بھی مستعفی ہونے کا فیصلہ کر لیا لیکن اس سے پہلے انہوں نے کئی گھنٹے وزیر اعظم سے ملاقات کی۔اس کے کچھ دنوں بعد بھٹو صاحب نے رفیع رضا صاحب کو اس ملاقات کی تفصیلات بتا ئیں تو بھٹو صاحب کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔انہوں نے کہا کہ مبشر نے الزام لگایا ہے کہ ان کے رشتہ دار اور ملازم بد عنوانیاں کر رہے ہیں اور اصرار کیا کہ وہ فون اُٹھا کر متعلقہ شعبہ سے اس کی تصدیق کریں۔بھٹو صاحب نے کہا مبشر کا یہ الزام غلط تھا۔مبشر حسن صاحب نے بھٹو صاحب کو مشورہ دیا کہ وہ اپنے ارد گرد در باریوں اور بیورو کریسی کے افراد سے نجات حاصل کریں۔اور مذہبی جماعتیں جس نظام مصطفے ﷺ کا مطالبہ کر رہی ہیں اسے تسلیم نہ کریں۔اور یہ مطالبہ کیا کہ پارٹی کو اس کی اصلی حالت میں واپس لایا جائے اور اس بحران سے نمٹنے کے لئے بنیادی تبدیلیاں کی جائیں۔بھٹو صاحب نے کہا کہ اس بحران میں یہ تبدیلیاں کرنا ممکن نہیں ہے۔پھر بھٹو صاحب نے دکھ سے پوچھا کہ کیا وجہ ہے کہ پی پی پی میں ان کے پرانے ساتھی انہیں چھوڑ چکے ہیں۔بہتر ہوتا کہ بھٹو صاحب اگر یہ سوال اپنے آپ سے پوچھتے۔(۷) اس صورتِ حال میں بھٹو صاحب کو یہی سوجھی کہ ایک مرتبہ پھر مولویوں کو خوش کر کے اپنے خلاف بر پا اس شورش کو ٹھنڈا کریں۔چنانچہ انہوں نے ۱۸ اپریل ۱۹۷۷ء کو ایک پریس کانفرنس میں ملک میں شریعت کے نفاذ کا اعلان کیا۔اور ابتدائی اقدامات کے طور پر ملک میں شراب کے استعمال پر، قمار بازی پر اور نائٹ کلبوں پر پابندی لگادی اور اعلان کیا کہ ملک میں اسلامی نظریاتی کونسل کے دوبارہ احیاء کا اعلان کیا اور مودودی صاحب مفتی محمود صاحب، شاہ احمد نورانی صاحب اور احتشام الحق تھانوی صاحب کو کونسل میں شامل کرنے کا اعلان کیا۔اور یہ یقین دلایا کہ اس کونسل کی سفارشات کو چھ ماہ کے اندر منظور کر لیا جائے گا۔اب وہ مخالف مولویوں کے آگے گھٹنے ٹیک کر اپنے اقتدار کی طوالت