سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 531 of 766

سلسلہ احمدیہ — Page 531

531 جو خشیت اللہ ہے یہ غیر اللہ کے خوف کو مٹادیتی ہے۔اللہ سے یہ ڈر کہ کہیں وہ ناراض نہ ہو جائے وہ ہر دوسرے کے خوف کو دل سے نکال دیتا ہے۔۔۔۔۔۔شاید سات آٹھ سال گزر گئے غالباً ۱۹۶۶ - ۱۹۶۷ کی بات ہے ایک موقع پر مجھے حاکم وقت سے ملنا تھا تو مجھے بڑے زور سے اللہ تعالیٰ نے یہ کہا کہ ءَ اَرْبَابٌ مُتَفَرِّقُونَ خَيْرٌ اَمِ اللهُ الْوَاحِدُ الْقَهَّارُ۔اور یہ میرے لئے عنوان تھا۔ہدایت تھی کہ اس رنگ میں جا کر باتیں کرنی ہیں۔پس یہ بھی اللہ تعالیٰ کا فضل ہے کہ کمزوری سے بچانے کے لیے وقت سے پہلے ہی راہ بتادی (خطبات ناصر جلد پنجم صفحه ۶۲۴، ۶۲۵) 66 اس خطبہ کے آخر میں حضور نے فرمایا پس یہ دنیا جس میں دنیا کے لوگ بستے ہیں ایک اور دنیا ہے اور وہ دنیا جس میں احمدی بستے ہیں وہ ایک اور ہی دنیا ہے اور احمدیوں کا فرض ہے کہ اپنے نفسانی جذبات کو بالکل فتا کر دیں اور کسی صورت میں اور کسی حال میں غصہ اور طیش میں نہ آئیں اور نفس بے قابو ہوکر وہ جوش نہ دکھلائیں جو خدا تعالیٰ کی ناراضگی مول لینا ہے بلکہ تواضع اور انکسار کی انتہاء کو پہنچ جائیں اور اپنی پیشانیاں ہمیشہ خدا تعالیٰ کے حضور زمین پر رکھے رہیں۔“ (۱۴) عام خیال تھا کہ ۷ ستمبر کو قو می اسمبلی احمدیوں کے متعلق فیصلہ کرے گی۔حالانکہ حقیقت یہ تھی کہ ان کی تمام کوششوں اور مخالفت کے باوجود اس فیصلہ کا یا اس جیسے دیگر فیصلوں کا جماعت پر اگر کوئی نتیجہ مرتب ہوا تو وہ یہی تھا کہ جماعت پہلے سے بھی زیادہ تیز رفتاری سے ترقی کرنے لگ گئی۔لیکن اصل حقیقت یہ تھی کہ یہ فیصلہ پاکستان کے مستقبل کے بارے میں کیا جار ہا تھا اور ایک منفی فیصلے نے پاکستان کے لیے نہ ختم ہونے والی مصیبتوں کے دروازے کھول دیئے۔بہر حال ۷ ستمبر کا دن آیا۔دو پہر کو ساڑھے چار بجے اسمبلی کی کارروائی شروع کی گئی۔تلاوت کے بعد سپیکر قومی اسمبلی صاحبزادہ فاروق علی خان صاحب نے وزیر قانون عبد الحفیظ پیرزادہ صاحب کو اپنی رپورٹ پیش کرنے کے لئے کہا : (الف) کہ پاکستان کے آئین میں حسب ذیل ترمیم کی جائے (اوّل) دفعہ ۱۰۶ (۳) میں قادیانی جماعت اور لاہوری جماعت کے اشخاص (جو اپنے آپ کو احمدی کہتے ہیں ) کا ذکر کیا جائے۔