سلسلہ احمدیہ — Page 532
532 ( دوم ) دفعہ ۱۰۶ میں ایک نئی شق کے ذریعے غیر مسلم کی تعریف درج کی جائے۔مذکورہ بالا سفارشات کے نفاذ کے لیے خصوصی کمیٹی کی طرف سے متفقہ طور پر منظور شدہ مسودہ قانون منسلک ہے۔صلى الله (ف) کہ مجموعہ تعزیرات پاکستان کی دفعہ ۲۹۵ الف میں حسب ذیل تشریح درج کی جائے تشریح: کوئی مسلمان جو آئین کی دفعہ ۲۶۰ کی شق نمبر ۳ کی تشریحات کے مطابق حضرت محمد ﷺ کے خاتم النبین ہونے کے تصور کے خلاف عقیدہ رکھے یا عمل یا تبلیغ کرے وہ دفعہ ہذا کے تحت مستوجب سزا ہو گا۔(ج) که متعلقہ قوانین مثلاً قومی رجسٹریشن ایکٹ ۱۹۷۳ ء اور انتخابی فہرستوں کے قواعد ۱۹۷۴ء میں قانونی اور ضابطہ کی ترمیمات کی جائیں۔(د) کہ پاکستان کے تمام شہریوں کو خواہ وہ کسی بھی فرقے سے تعلق رکھتے ہوں کے جان، مال، آزادی ، عزت اور بنیادی حقوق کا پوری طرح تحفظ اور دفاع کیا جائے۔وزیر قانون عبد الحفیظ پیرزادہ نے قرارداد کے الفاظ پڑھنے شروع کیے تھے کہ وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو صاحب ایوان میں داخل ہوئے۔اور اس وقت ایوان کے ممبران نے ڈیسک بجا کروز یر اعظم کا والہانہ استقبال کیا۔لیکن اس موقع پر احمد رضا قصوری صاحب نے مداخلت کی اور کہا کہ اس آئینی ترمیم میں یہ الفاظ شامل کئے جائیں کہ مرزا غلام احمد قادیانی اور ان کے پیرو کار خواہ وہ کسی نام سے جانے جاتے ہوں قانون اور آئین کے حوالے سے غیر مسلم ہیں۔لیکن وزیر قانون نے اس کی مخالفت کی اور کہا کہ کمیٹی میں اس ترمیم کو متفقہ طور پر منظور کیا گیا تھا اور اب جب اس ترمیم کی شقوں پر رائے شماری کی گئی تو انہیں بھی ایوان میں متفقہ طور پر منظور کیا گیا۔احمد رضا قصوری صاحب اپنی ترمیم ایوان کے سامنے پیش کرنے پر مصر تھے۔وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو صاحب نے بھی اسے خلاف ضابطہ قرار دیا۔سپیکر نے ایوان سے رائے لی کہ کیا احمد رضا قصوری صاحب کو اس بات کی اجازت دی جائے کہ وہ اس ترمیم میں اپنی ترمیم پیش کر سکیں تو ہر طرف سے نہیں نہیں کی آوازیں بلند ہونے لگیں۔اس پر سپیکر صاحب نے کہا کہ وہ اس بات کی اجازت نہیں دے سکتے۔احمد رضا قصوری صاحب نے کہا کہ وہ واک آؤٹ کر رہے ہیں کیونکہ انہیں ( یعنی احمدیوں کو ) غیر مسلم نہیں قرار دیا جارہا۔رائے شماری سے