سلسلہ احمدیہ — Page 530
530 باقی سب تو جنرل رانی ہیں۔“ (۱۱) لیکن توازن اور فراست ایسی اجناس نہیں تھی جو کہ اس دور کے صاحبانِ اقتدار کو میسر ہوں۔اب تو ہر طرف جماعت احمدیہ کے خلاف نفرت کی آندھیاں چلائی جارہی تھیں۔ہر طرف سے یہ آواز میں اُٹھ رہی تھیں کہ انہیں مارو، ان کے گھروں کو جلاؤ ، ان کا بائیکاٹ کرو، ان کو بنیادی حقوق سے محروم کر دو۔ہر سیاستدان یہ سوچ رہا تھا کہ وہ اس مسئلہ پر بیان بازی کر کے کس طرح سیاسی مقاصد حاصل کر سکتا ہے۔ایک روایت ہے کہ یوم دفاع کے دن وزیر اعظم ملک کے عوام کے نام ایک پیغام دیتے ہیں۔اس روز وزیر اعظم بھٹو صاحب نے جو پیغام دیا اس میں انہوں نے کہا کہ اس وقت ملک کو مختلف النوع خطرات درپیش ہیں۔بیرونی اشارے پر تخریبی کارروائیاں ہورہی ہیں۔ملک میں بعض سیاسی گروپ علاقہ پرستی کو ہوا دے رہے ہیں۔اور انتہا پسند فرقہ پرست گروہ ہمارے دفاع کے لیے خطرہ بنے ہوئے ہیں (۱۲) بہت خوب! ملک کے دفاع پر آپ خود اقرار کر رہے ہیں کہ انتہا پسند فرقے ملک کے دفاع کے لیے خطرہ بن چکے ہیں۔مگر جب ملک کو یہ خطرہ لاحق تھا تو آپ کیا کر رہے تھے؟ آپ ان کے مطالبات تسلیم کر کے ان کو تقویت دے رہے تھے اور یہ سوچ رہے تھے کہ احمدی تو ایک چھوٹا سا گروہ ہے اگر ان کے حقوق تلف بھی کر لیے گئے تو کیا فرق پڑتا ہے؟ یہ تو اپنا بدلہ لینے کی بھی طاقت نہیں رکھتے۔اس سے ہم سیاسی فائدہ اُٹھا سکتے ہیں۔یہ بات صحیح بھی تھی لیکن ایک بات پاکستان کے سیاستدان بھول رہے تھے ایک خدا بھی ہے جو احمد یوں پر ہونے والے ہر ظلم کا بدلہ لینے پر قادر ہے۔اور تب سے اب تک اس ملک کی تاریخ عبرت کی داستانوں سے بھری ہوئی ہے۔بہر حال فیصلے کے اعلان سے ایک روز پہلے اخبارات میں یہ فخریہ خبریں شائع ہونی شروع ہو گئیں کہ سواد اعظم کی خواہشات کے مطابق قادیانی مسئلہ کا قابل قبول حل تلاش کر لیا گیا ہے۔(۱۳) 4 ستمبر کو جمعہ کا روز تھا۔حضرت خلیفہ اسیح الثالث نے خطبہ میں فرمایا۔۔جو شخص یہ کہے کہ میں دنیا کی طاقتوں سے مرعوب ہو گیا۔دوسرے لفظوں میں وہ یہ اعلان کر رہا ہے کہ میرا خدا کے ساتھ واسطہ کوئی نہیں۔۔ورنہ آدم سے لے کر معرفت حاصل کرنے والوں نے خدا تعالیٰ کے پیار کے سمندر اپنے دلوں اور سینوں میں موجزن کئے اور سوائے خدا تعالیٰ کی خشیت کے اور کوئی خوف اور خشیت تھی ہی نہیں ان کے دلوں میں۔یہ