سلسلہ احمدیہ — Page 516
516 بیان کی گئی تھی کہ اٹارنی جنرل صاحب چونکہ عربی صحیح نہیں بول سکتے اس لیے کچھ سوالات مولوی صاحب پیش کریں گے۔لیکن حقیقت یہ تھی کہ مولوی صاحب اکثر سوالات وہ کر رہے تھے جن میں عربی بولنے کی کوئی ضرورت ہی نہیں تھی۔مشہور ہے کہ مخالفین کو یہ شک ہو گیا تھا کہ اٹارنی جنرل صاحب سوالات سے جماعت کو مطلع کر دیتے ہیں، اسی لئے حضرت خلیفتہ اسیح الثالث فوراً سوال کا جواب دے دیتے ہیں۔اس لیے اپنی طرف سے مخالفین نے یہ چال چلی تھی کہ اب ان میں سے کوئی براہِ راست یہ سوالات کرے۔لیکن خدا کا کرنا ایسا ہوا کہ جو سوالات اب کیے جارہے تھے ان میں سے اکثر کے متعلق لکھا ہوا مواد جماعت کے وفد کے پاس موجود تھا اس لیے مولوی صاحب کو پاؤں جمانے کا موقع بھی نہیں میسر آ رہا تھا۔اس مرحلہ پر سپیکر صاحب نے جماعت کے وفد کو کہا کہ وہ کمیٹی روم میں دس منٹ انتظار کریں اور کارروائی لکھنے والوں کو بھی باہر جانے کا کہا۔اس دوران کارروائی لکھی نہیں گئی۔اس لیے خدا ہی بہتر جانتا ہے کہ اس دوران کیا بات ہوئی۔جب دس منٹ کے بعد کارروائی دوبارہ شروع ہوئی تو مولوی ظفر انصاری صاحب نے ایک مختصر سوال یہ کیا کہ دمشق اور قادیان میں کیا مماثلت ہے۔اور اس کے بعد اٹارنی جنرل صاحب نے اس کا رروائی کا آخری سوال کیا۔انہوں نے کہا کہ مرزا صاحب میں آپ کی توجہ محضر نامے کے صفحہ ۱۸۹ کی طرف دلاتا ہوں۔(اصل میں یہ حوالہ صفحہ ۱۸۷ پر تھا۔آخر تک اٹارنی جنرل صاحب نے غلط حوالہ پڑھنے کا ریکارڈ قائم رکھا۔اور اٹارنی جنرل صاحب نے کہا کہ بعض ممبران محسوس کر رہے ہیں کہ اس کی Relevance کیا ہے۔پھر انہوں نے محضر نامے کے آخر پر درج حضرت مسیح موعود کی پر شوکت تحریر کا شروع کا حصہ پڑھا جو یہ تھا ”اے لو گوتم یقیناً سمجھ لو کہ میرے ساتھ وہ ہاتھ ہے جو اخیر تک مجھ سے وفا کرے گا۔اگر تمہارے مرد اور تمہاری عورتیں اور تمہارے جوان اور تمہارے بوڑھے اور تمہارے چھوٹے اور تمہارے بڑے سب مل کر میرے ہلاک کرنے کے لیے دعائیں کریں یہاں تک کہ سجدے کرتے کرتے ناک گل جائیں اور ہاتھ شل ہو جائیں تب بھی خدا ہر گز تمہاری دعا نہیں سنے گا۔۔۔۔۔“ یہ حصہ پڑھ کر اٹارنی جنرل صاحب نے سوال کیا کہ یہ کوئی دھمکی ہے یا اپیل ہے۔اس کی