سلسلہ احمدیہ — Page 517
517 Relevance کیا ہے۔اس پر حضور نے فرمایا کہ یہ دھمکی نہیں یہ خواہش بھی نہیں۔صرف یہ کہا گیا ہے کہ تمھارے اور میرے درمیان اختلاف ہے اسے خدا تعالیٰ پر چھوڑ دو۔میرا یہ عقیدہ ہے کہ جب تم اسے خدا تعالیٰ پر چھوڑ دو گے تو میری دعائیں قبول ہوں گی اور تمہاری دعائیں قبول نہیں ہوں گی اور جس مقصد غلبہ اسلام کے لیے مجھے کھڑا کیا گیا ہے وہ پورا ہوگا اور اسلام ساری دنیا پر غالب آجائے گا۔اس کے بعد اٹارنی جنرل صاحب نے یہ کہا کہ اب ان کے سوالات ختم ہو گئے ہیں۔اور حضور سے کہا کہ آپ کسی سوال کے متعلق کچھ اور کہنا چاہیں تو کہہ سکتے ہیں۔اس پر حضور نے فرمایا کہ ” ان گیارہ دنوں کے دوران تقریباً ۶۰ گھنٹے مجھ پر جرح کی گئی ہے۔اس دوران میرے دماغ کی یہ کیفیت ہے کہ نہ دن کا مجھے پتہ ہے اور نہ رات کا پتہ ہے۔ہم نے اور بھی کئی کام کرنے ہوتے ہیں۔عبادت کرنی ہے۔دعائیں کرنی ہیں۔اس وقت میرے دماغ ایسے سوالات جن کے متعلق مجھے کچھ کہنا ہے حاضر نہیں ہیں۔صرف ایک بات آپ کی اجازت سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے یہ کرنا چاہتا ہوں کہ اگر دل کی گہرائیاں چیر کر میں آپ کو دکھا سکوں تو وہاں میرے اور میری جماعت کے دل میں اللہ تعالیٰ (جیسا کہ اسلام نے اسے پیش کیا دنیا کے سامنے ) اور حضرت محمد ﷺ کی محبت اور عشق کے سوا کچھ نہیں پایا جاتا۔شکریہ۔“ اس کے بعد ایک بار پھر اٹارنی جنرل صاحب نے کہا کہ اب ان کے پاس اور کوئی سوال نہیں ہے۔اور سپیکر صاحب نے تمام لوگوں کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے صبر و تحمل سے کارروائی میں حصہ لیا۔اور ایک بار پھر بڑے اصرار سے کہا کہ اس کا رروائی کو خفیہ رکھنا چاہئے۔اور اس طرح یہ تاریخی کارروائی ختم ہوئی۔چند اہم نکات کا اعادہ پڑھنے والے اس کا رروائی کا خلاصہ پڑھ چکے ہیں۔یہ کاروائی اپنی مثال آپ ہی ہے۔آئندہ آنے والے وقت میں اس کے متعلق بہت کچھ لکھا اور کہا جائے گا۔ہم ساتھ کے ساتھ اہم امور کے