سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 515 of 766

سلسلہ احمدیہ — Page 515

515 الیاس برنی صاحب کی کتاب سے یہ حوالہ پڑھ کر سنا رہے ہیں۔سپیکر صاحب نے کہا کہ آپ کا سوال کیا ہے۔اس پر بڑی مشکل سے مولوی ظفر انصاری صاحب کے ذہن سے یہ سوال برآمد ہوا کہ جو کہ در حقیقت سوال تھا ہی نہیں اور وہ یہ تھا کہ قرآن جو ہمارے پاس ہے یہ کمل ہے اور اس پر ایمان لانا اور اس کی اتباع کرنا کافی ہے۔اس پر حضور نے قرآن کریم کو ہاتھ میں لے کر فرمایا ” یہ قرآن کریم جو میں نے ہاتھ میں پکڑا ہوا ہے، اس کو گواہ بنا کر میں اعلان کرتا ہوں۔سوائے اس قرآن کے ہمارے لئے کوئی کتاب نہیں۔“ اس پر مولوی صاحب نے موضوع بدلا اور اس اعتراض پر آگئے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحابہ کے متعلق صحابہ کا لفظ کیوں استعمال کیا جاتا ہے؟ پھر انہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اس مصرعہ پر اعتراض کیا بع یہی ہیں پنجتن جن پر بنا ہے۔اس پر حضور نے فرمایا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو وحی کے ذریعہ بتادیا گیا تھا کہ ان کے آباء کی نسل کائی جائے گی اور اب حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے نسل چلے گی۔اس سے زیادہ اس کا کوئی مطلب نہیں ہے۔اس کے بعد ظفر انصاری صاحب کچھ اور ایسے اعتراضات پیش کرتے رہے جو کہ ایک عرصہ سے جماعت احمدیہ کے مخالفین کر رہے تھے۔مثلاً یہ کہ کیا احمدی حج کا مقام اپنے جلسہ سالانہ کو دیتے ہیں، اس کے جواب میں حضور نے فرمایا کہ احمدیوں کے نزدیک حج ہر صاحب استطاعت پر فرض ہے۔پھر یہ عجیب اعتراض کیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو بیت الذکر اور بیت الفکر کے متعلق یہ الہام ہوا تھا کہ جو اس میں داخل ہوگا وہ امن میں آجائے گا۔جب کہ مسلمانوں کے نزدیک مکہ مکرمہ امن کا مقام ہے اور یہ مقام مکہ مکرمہ کو حاصل ہے۔اس کے جواب میں حضور نے فرمایا کہ آپ یہ کہتے ہیں کہ رسول کریم کی بعثت صرف اس لیے تھی کہ صرف ایک چھوٹی سی جگہ کو امن کا مقام بنا دیا جائے لیکن ہم یہ کہتے ہیں کہ مکہ تو صرف ایک Symbol ہے اور وہ ایک نمونہ ہے اور ہمیں حکم ہے کہ جگہ جگہ وہ مقامات بناؤ جہاں پر داخل ہونے والے امن میں آجائیں۔لیکن اب یہ تھا کہ جب حضور اس کا جواب دے دیتے تو سپیکر صاحب فوراً اگلا سوال پوچھنے کا کہتے اور مجبوراً مولوی صاحب کو آگے چلنا پڑتا۔جب اٹارنی جنرل صاحب کی جگہ مولوی صاحب کو سوالات کے لیے سامنے لایا گیا تو وجہ یہ