سلسلہ احمدیہ — Page 463
463 پڑھ کر اپنی تسلی کی جاسکتی ہے۔اس سیشن میں باقی سوالات بھی اسی نوعیت کے تھے کہ احمدیوں نے خود ہی ہمیشہ سے اپنے آپ کو مسلمانوں سے علیحدہ رکھا ہے۔اور اس کی نام نہاد برہانِ قاطع کے طور پر اٹارنی جنرل صاحب نے حضرت مصلح موعودؓ کی اس تقریر کا ایک حوالہ پیش کیا جو حضور نے ۱۹۲۴ء میں لندن میں ویمبلے کا نفرنس کے موقع پر تحریر فرمائی تھی اور وہاں پر اس کا انگریزی ترجمہ حضرت چوہدری ظفر اللہ خان صاحب نے پڑھ کر سنایا تھا۔جو جملہ اٹارنی جنرل صاحب نے وہاں پر پڑھا وہ ملا حظہ ہو Ahmadis to form a seperate from the outside Mussalmans جمله پر سرسری نظر ہی بتا دیتی ہے کہ یہ فقرہ ہی درست نہیں ہے، اس حوالے نے کیا درست ہونا ہے۔اس کا کوئی مطلب ہی نہیں بنتا۔اور حضور نے اسی وقت اس امر کی نشاندہی فرما دی۔اٹارنی جنرل صاحب اور ان کی ٹیم نے اپنی سابقہ غلطیوں سے کوئی سبق نہیں حاصل کیا تھا۔یہ تقریر انگریزی میں بھی Ahmadiyya Movement کے نام سے شائع ہوئی ہے اور اس پوری تقریر میں اس قسم کا کوئی جملہ موجود نہیں۔اس تقریر میں تو حضرت مصلح موعودؓ نے یہ مضمون بیان فرمایا ہے۔آپ فرماتے ہیں میں یہ بیان کر چکا ہوں کہ مسیح موعود کسی نئے مذہب کے لانے والے نہ تھے بلکہ آپ اسلام کی خدمت کرنے اس کو نئی زندگی دینے اس کی اشاعت کرنے اور بنی آدم کو اسلام کی معرفت خدا کی طرف لے جانے کے لئے بھیجے گئے تھے۔“ اس میں تو اٹارنی جنرل صاحب کے لگائے گئے الزام سے بالکل بر عکس مضمون بیان ہوا تھا۔جب وقت ختم ہوا تو جماعت کے وفد پر اس بات کا انکشاف کیا گیا کہ اب کارروائی کچھ دنوں کے لیے روکی جارہی ہے۔اور سپیکر صاحب نے اعلان کیا کہ اب کچھ دنوں کے لیے کارروائی روکی جا رہی ہے کیونکہ اٹارنی جنرل صاحب بھی مشقت سے گزرے ہیں اور وفد کے اراکین بھی مشقت سے گزرے ہیں۔اسی گفتگو کے دوران اٹارنی جنرل صاحب نے فرمایا: It is a strain on me also۔۔۔۔۔you are well acquainted