سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 462 of 766

سلسلہ احمدیہ — Page 462

462 تھی۔وہ اعتراض یہ اُٹھا رہے تھے کہ احمدیوں نے ہمیشہ خود کو مسلمانوں سے علیحدہ رکھا ہے۔اور اس کی دلیل یہ پیش کر رہے تھے کہ ہر مذہب کے لوگوں نے اپنا علیحدہ کیلنڈر بنایا ہے۔عیسائیوں کا اپنا، مسلمانوں کا اپنا اور ہندوؤں اور پارسیوں کے اپنے اپنے کیلنڈر ہیں، اسی طرح احمد یوں نے بھی اپنا علیحدہ کیلنڈر بنایا ہوا ہے۔گویا تان اس بات پر ٹوٹ رہی تھی کہ اس طرح احمد یوں نے اسلام سے اپنا علیحدہ مذہب بنایا ہوا ہے۔بہت سے پیدائشی احمدی بھی یہ اعتراض پڑھ کر دم بخودرہ گئے ہوں گے، اس لیے وضاحت ضروری ہے۔معروف اسلامی ہجری کیلنڈر تو قمری حساب سے رائج ہے۔اور مسلمانوں میں سمسی کیلنڈر کے لیے عیسوی کیلنڈر استعمال ہوتا ہے جو کہ حضرت عیسی کی پیدائش کے سال سے شروع ہوتا ہے۔حضرت مصلح موعودؓ نے ایک ایسا سمسی کیلنڈر تیار کروایا جو کہ رسولِ کریم ﷺ کی ہجرت کے سال سے شروع ہوتا تھا۔اور جنوری فروری مارچ وغیرہ نام کی بجائے نئے نام رکھے گئے جو اس ماہ میں ہونے والے ایسے اہم واقعات کی نسبت سے رکھے گئے جو رسولِ کریم ﷺ کی زندگی میں ہوئے۔مثلاً جنوری کا نام صلح اس نسبت سے رکھا گیا کہ اس ماہ میں صلح حدیبیہ کا واقعہ ہوا تھا، فروری کا نام تبلیغ اس وجہ سے رکھا گیا کہ اس ماہ میں آنحضرت ﷺ نے بادشاہوں کو تبلیغی خطوط لکھے تھے۔گویا اگر کوئی آنحضرت ﷺ کی محبت میں یہ کہے کہ شمسی کیلنڈر کو حضرت عیسی کی پیدائش کی بجائے رسول کریم ﷺ کی ہجرت سے شروع کرنا چاہئے۔اور مہینوں کے نام آنحضرت ﷺ کی حیات طیبہ کے واقعات پر رکھنے چاہئیں تو اس کا مطلب یہ لیا جائے کہ یہ شخص یا یہ جماعت اپنے آپ کو اسلام سے علیحدہ کر رہی ہے اور اسے دائرہ اسلام سے خارج کر دینا چاہئے۔کوئی ذی ہوش اس لغو سوچ کی حمایت نہیں کر سکتا۔اس کے علاوہ اگر کیلنڈر دیکھ کر کسی کے مذہب کا فیصلہ کرنا ہے تو پھر عالم اسلام میں تو سب سے زیادہ عیسوی کیلنڈر مستعمل ہے تو کیا ان سب مسلمانوں کو عیسائی سمجھا جائے گا۔پھر یہ اعتراض اُٹھایا گیا کہ احمدیوں نے مسنون درود کی بجائے اپنا علیحدہ درود بنایا ہوا ہے اور اس میں احمد کا نام شامل کیا گیا ہے۔اس الزام کی لمبی چوڑی تردید کی ضرورت نہیں۔دنیا کے ایک سونوے سے زیادہ ممالک میں احمدی موجود ہیں ان میں سے کسی سے بھی دریافت کیا جا سکتا ہے کہ وہ نماز میں کون سا درود پڑھتا ہے اور جماعت کے لٹریچر میں ہزاروں جگہ پر درود کی عبارت درج ہے کہیں سے