سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 37 of 766

سلسلہ احمدیہ — Page 37

37 میں نے امرائے اضلاع کی میٹنگ میں کہا ہو۔اب میں جماعت کے سامنے ان کو ذمہ دار قرار دیتا ہوں۔اس کلاس میں باقاعدہ سکیم کے ماتحت نمائندے آنے چاہئیں مثلاً چاہے آپ شروع میں دس قریب قریب کی جماعتوں کا ایک نمائندہ بھیجیں اور وہ وہاں جا کر کام کرے۔اول تو یہ ہے کہ ہر گاؤں کا آئے۔یہ ٹھیک ہے کہ اس کے نتیجہ میں ایک ہزار مرد آئے گا۔اس دفعہ کل تعداد پانچ سو سے اوپر تھی۔مردسوا دوسو کے قریب تھے اور لڑکیاں زیادہ تھیں۔وہ آپ سے آگے بڑھ رہی ہیں اور یہ شرم کی بات ہے کہ مردوں سے لڑکیاں آگے بڑھ جائیں۔بہر حال آگے بڑھ رہی ہیں۔اللہ تعالیٰ ان کو جزا دے۔“ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کے حکم کے ماتحت اور اللہ تعالیٰ سے بشارات پا کر جماعت احمدیہ میں نظام وصیت جاری فرمایا تھا۔اس نظام سے وابستہ افراد کے لئے نہ صرف یہ لازم تھا کہ وہ اپنی جائیداد اور آمد کا دسواں حصہ خدمت اسلام کے لئے پیش کریں بلکہ ان کے لئے یہ بھی لازم تھا وہ دین کو دنیا پر مقدم کریں اور دنیا کی محبت چھوڑ کر صرف خدا کے ہو جائیں۔اور اس نظام کے تحت جو عظیم الشان کام ہونے تھے ان میں سے ایک اہم ترین کام اشاعت علم قرآن اور اشاعت کتب دینیہ کا کام بھی تھا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام رسالہ الوصیت میں تحریر فرماتے ہیں:۔اور یہ مالی آمدنی ایک بادیانت اور اہل علم انجمن کے سپر در ہے گی۔اور وہ باہمی مشورہ سے ترقی اسلام اور اشاعت علم قرآن و کتب دینیہ اور اس سلسلہ کے واعظوں کے لئے حسب ہدایت مذکورہ بالا خرچ کریں گے۔‘(۹) یہ ظاہر ہے کہ نظام وصیت اور اشاعت علم قرآن کا گہراتعلق ہے۔اور اس ناطے سے اس نظام سے وابستہ افراد پر اشاعت علم قرآن کی دوہری ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔چنانچہ حضرت خلیفتہ اسیح الثالث نے ۵ اگست ۱۹۶۶ ء کے خطبہ جمعہ میں وقف عارضی اور تعلیم القرآن کی تحریکوں کو موصیان کی تنظیموں سے ملحق کرنے کا اعلان فرمایا۔اس خطبہ جمعہ کے آغاز پر آپ نے جماعت کو یہ خوش خبری سنائی۔آپ نے فرمایا:۔" کوئی پانچ ہفتہ کی بات ہے ابھی میں ربوہ سے باہرگھوڑا گلی کی طرف نہیں گیا تھا۔ایک دن جب میری آنکھ کھلی تو میں بہت دعاؤں میں مصروف تھا۔اس وقت عالم بیداری میں