سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 36 of 766

سلسلہ احمدیہ — Page 36

36 القرآن کلاس جاری تھی۔پہلی کلاس میں شرکاء کی تعدا د صرف ۷۳ تھی۔اور ۱۹۶۵ء میں پہلی مرتبہ خواتین اس کلاس میں شریک ہوئیں اور کل شرکاء کی تعداد ۱۲۰ تھی۔وقف عارضی کے اعلان کے بعد پہلی تعلیم القرآن کلاس اگست ۱۹۲۶ء میں منعقد ہوئی۔حضرت خلیفہ اسیح الثالث نے اس کی اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا:۔قرآن مجید میں بے شمار برکات ہیں۔ان برکات کو مختلف طریقوں سے حاصل اور ان سے فیض یاب ہوا جاتا ہے۔قرآن مجید سے سب سے بڑی برکت جو حاصل کی جاسکتی ہے وہ اسپر عمل کرنے سے ہی حاصل ہوتی ہے۔اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں آنحضرت کو تمام بنی نوع انسان کے لئے اسوہ حسنہ قرار دیا ہے۔آپ اسوہ حسنہ اسی لئے ہیں کہ آپ نے قرآنِ مجید پر عمل کر کے دکھایا۔(۸) اس کے بعد حضور نے ارشاد فرمایا کہ تعلیم القرآن کلاس جو ہر سال مرکز میں منعقد ہوتی ہے قرآن مجید سیکھنے اور سکھانے کی ایک کوشش ہے تا قرآن پر کما حقہ عمل کرنا آسان ہو سکے۔جو احباب اس کلاس میں شامل ہوتے ہیں انہیں بتایا جاتا ہے کہ حقیقی اور کامیاب زندگی وہی ہے جو قرآن کریم کے نور میں گزاری جائے۔اس کے بغیر دنیا میں ہر طرف اندھیرا ہی اندھیرا ہے۔یہ غرض جبھی پوری ہو سکتی ہے کہ تعلیم القرآن کلاس تمام جماعتوں کی نمائندہ جماعت ہو۔امسال کلاس میں جولوگ شریک ہوئے ہیں وہ مغربی پاکستان کی جماعتہائے احمدیہ میں سے دس فیصد جماعتوں کی بھی تو نمائندگی نہیں کر رہے۔اس جماعت کو صیح معنوں میں تمام جماعتوں کی نمائندہ جماعت بنانے کے لئے ضروری ہے که آئنده سال نظارت اصلاح و ارشاد کئی ماہ قبل ہی کوشش شروع کر دے کہ کلاس میں ہر ضلع کی جماعت ہائے احمدیہ کی نمائندگی ہو۔حضور نے کلاس میں ایسے طریق پر تعلیم دینے پر زور دیا جس سے نسبتاً زیادہ پڑھے لکھے اور نسبتاً کم پڑھے لکھے طلبہ یکساں طور پر فائدہ اُٹھا سکیں۔(۸) حضرت خلیفہ اسیح الثالث نے ۲۷ / دسمبر ۱۹۷۰ء کی جلسہ سالانہ کی تقریر میں ارشاد فرمایا:۔کچھ جماعتیں رپورٹیں بھجوا رہی ہیں، کچھ ست ہیں۔ہفتہ قرآن مجید بھی منایا گیا جس سے کافی فائدہ ہوا۔تعلیم القرآن کلاس منعقد کی گئی جس میں صرف پانچ سو تیرہ طلبہ اور طالبات شریک ہوئیں۔میں نے امرائے اضلاع کو کہا تھا کہ یہ ان کی ذمہ داری ہے۔شاید وو