سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 32 of 766

سلسلہ احمدیہ — Page 32

32 احباب جماعت کو تفسیر صغیر سے استفادہ کرنے کی نصیحت یوں تو بہت سے مترجمین نے بڑی محبت اور محنت سے قرآنِ کریم کے تراجم کئے ہیں لیکن تفسیر صغیر کا ایک نمایاں مقام ہے۔ایک تو یہ صرف ترجمہ نہیں ہے بلکہ اس میں بہت مختصر ، آسان فہم اور جامع تفسیر بھی ہے۔اور دوسرے یہ کہ اس کو اس عظیم الشان وجود نے تحریر کیا ہے جس کی پیدائش سے پہلے ہی اللہ تعالیٰ نے بتادیا تھا کہ اس کے ذریعہ کلام اللہ کا مرتبہ ظاہر ہوگا۔چنانچہ ۱۹۶۸ء میں حضرت خلیفہ اسیح الثالث نے ان الفاظ میں احباب جماعت کو اس نعمت سے استفادہ کرنے کی نصیحت فرمائی: پھر تفسیر صغیر ہے۔یہ حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کی کی ہوئی قرآن کریم کی تفسیر ہے جو علوم کا سر چشمہ اور تمام انوار کا سورج ہے۔مجھے پر یہ اثر ہے کہ بہت سے نوجوان اس تفسیر کی یا اس ترجمہ کی جس کے ساتھ تفسیری نوٹ ہیں، اہمیت نہیں سمجھتے۔میں بہت سے پڑھے لکھے دوستوں کو جو جماعت میں شامل نہیں یہ بھجواتا رہتا ہوں۔جس کے ہاتھ میں بھی یہ تفسیری نوٹ گئے ہیں جو تفسیر صغیر کے نام سے شائع ہوئے ہیں اس نے اتنا اثر لیا ہے کہ آپ اس کا اندازہ بھی نہیں کر سکتے۔لیکن رمضان کے درس کے موقع پر مسجد میں جو قرآن ہاتھوں میں پکڑے ہوتے ہیں ان کی اکثریت تفسیر صغیر کی نہیں ہوتی بلکہ دوسرے مطبعوں کے شائع کردہ قرآن کریم ہوتے ہیں۔جماعت کو خاص طور پر اس طرف توجہ کرنی چاہیئے۔اگر ہم قرآن کریم کے علوم صحیح طور پر سیکھنا چاہتے ہیں اور یہ چاہتے ہیں کہ ہمارے بچے اور نوجوان اس سے محبت کرنے لگیں۔اور ان کے دل کا شدید تعلق قرآن کریم کے نور سے ہو جائے تو ہر نو جوان بچے کے باپ یا گارڈین کے لئے ضروری ہے کہ اس کے ہاتھ میں تفسیر صغیر کو دیکھے اور اگر نہ دیکھے تو اس کا انتظام کرے۔“ تقریر جلسه سالانه ۱۲ جنوری ۱۹۶۸ء)